بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ملے گا یا نہیں؟ وزیر مملکت برائے خزانہ کا مؤقف سامنے آ گیا

Big relief announced for the salaried class ahead of the budget
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ملنے کے حوالے سے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔
راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ ٹیکس دینے والے اور خاص طور پر تنخواہ دار طبقے پر بوجھ زیادہ ہے اور اسے کم ہونا چاہیے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے پروگرام کی وجہ سے وفاقی حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر ریلیف دینے کی گنجائش محدود ہے۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ حکومت ٹیکس نظام میں اصلاحات اور ٹیکس وصولی بہتر بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں سخت ٹیکس وصولی کے ذریعے 803 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف خود ہر ہفتے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی اور ٹیکس اصلاحات کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ حکومت نجکاری کے عمل کو بھی آگے بڑھا رہی ہے تاکہ سرکاری اداروں پر مالی دباؤ کم ہو سکے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری اس سلسلے کا اہم قدم ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ مرحلے میں توانائی کے شعبے کی نجکاری پر بھی غور کیا جا رہا ہے کیونکہ بجلی کی ترسیل میں نقصانات اور گردشی قرضہ معیشت پر بڑا بوجھ ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









