بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 16 جولائی سے ادائیگی کا نیا نظام نافذ

How Will BISP Payments Work?
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے مستفید ہونے والے لاکھوں خاندانوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
حکومت نے مستحق افراد کو ادائیگی کا عمل مزید آسان، محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے پروگرام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت مستحقین کو ادائیگی کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونے یا ایجنٹس کے غیر ضروری مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت اور معاشرتی تحفظ کے اجلاس میں سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر احمد علی نے بتایا کہ 16 جولائی سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں کام کرے گا۔ اس تبدیلی کا مقصد مستحق خواتین اور دیگر فائدہ اٹھانے والوں کو زیادہ سہولت فراہم کرنا اور ادائیگی کے پورے عمل کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت مستحقین کی امدادی رقم براہ راست ان کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ رقم کی تقسیم کے دوران پیدا ہونے والی مشکلات بھی کم ہوں گی۔ بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ادائیگی سے مستحقین اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت رقم حاصل کر سکیں گے۔
سیکرٹری بی آئی ایس پی نے کہا کہ مستحقین کو موبائل فون پر پیغام بھی بھیجا جائے گا تاکہ انہیں ادائیگی کی اطلاع بروقت مل سکے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ رقم ایک ہی دن نکالنا ضروری نہیں۔ وہ اپنی سہولت کے مطابق بعد میں بھی بینک یا اے ٹی ایم سے رقم حاصل کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بینکوں اور ادائیگی مراکز پر غیر ضروری رش کو کم کرنا ہے۔
اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے ادارے میں ملازمین کی بھرتیوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام 2008 سے مسلسل چل رہا ہے، لیکن آج بھی ادارے میں ڈائریکٹرز سے لے کر ڈرائیورز تک زیادہ تر ملازمین ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اتنے اہم قومی ادارے میں مستقل بھرتیاں کیوں نہیں کی جا رہیں۔
اس پر ایڈیشنل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ مستقل بھرتیوں کی سمری پہلے ہی وزارت خزانہ کو بھجوائی جا چکی ہے۔ وزارت کی منظوری ملنے کے بعد ادارے میں مستقل ملازمین کی بھرتی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے اس معاملے پر جلد پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
اجلاس میں بی آئی ایس پی کے ساتھ کام کرنے والے چھ پارٹنر بینکوں کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے ایجنٹس کی تعداد میں اضافہ کریں تاکہ مستحقین کو ادائیگی حاصل کرنے میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔ کمیٹی کا مؤقف تھا کہ ادائیگی کے مراکز پر سہولیات بڑھانے سے عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










