وفاق اور سندھ میں مون سون اور سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تعاون پر اتفاق

وفاق اور صوبائی حکومت نے مون سون، سیلاب اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے اور بچاؤ کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتفاق کرلیا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں مون سون، سیلاب اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی تیاریوں کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے خصوصی شرکت کی۔
اجلاس میں سندھ اور وفاق نے مون سون، سیلاب اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے آپسی تعاون کو مزید بڑھانے پر مکمل اتفاق کیا۔
اجلاس کے دوران این ڈی ایم اے کی جانب سے ایک جدید ’نیکسٹ جنریشن ارلی وارننگ سسٹم‘ اور پریڈکٹیو ڈیزاسٹر انٹیلی جنس نظام متعارف کرایا گیا اور اس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ این ڈی ایم اے کا نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر ریئل ٹائم موسمی، آبی اور زمینی معلومات کی مسلسل نگرانی کرے گا۔
اس جدید وارننگ نظام کی بدولت وقت سے پہلے پیش گوئی، خطرات کی بروقت نشاندہی اور مؤثر ترین فیصلے کرنا ممکن ہوں گے۔
بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کو اس وقت گلیشیئر کے پگھلنے، فلیش فلڈ، دریائی سیلاب، ہیٹ ویوز، سمندری طوفان اور خشک سالی جیسے شدید خطرات درپیش ہیں۔
این ڈی ایم اے نے پیش گوئی کی ہے کہ 15 جولائی سے 30 اگست تک معمول سے زیادہ گرمی، شدید حبس اور ایک فعال مون سون سیزن کا امکان ہے۔
دریائے سندھ کے آخری حصے میں واقع ہونے کی وجہ سے سندھ سیلابی خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں جدید امتحانی نظام اور ای مارکنگ نافذ کرنے کا فیصلہ
اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ میں سیلاب کے تین بڑے ذرائع دریائے سندھ، کیرتھر کے برساتی ریلے اور مون سون کی طوفانی بارشیں ہیں۔
اس تناظر میں کشمور، گھوٹکی، سکھر، شکارپور، لاڑکانو، دادو، جامشورو اور قمبر شہدادکوٹ سمیت تمام حساس اضلاع کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کراچی، حیدرآباد، شہید بینظیر آباد، ٹھٹو، سجاول اور بدین کو شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کے خطرات والے اضلاع قرار دیا گیا ہے۔
صوبے میں موجود طویل حفاظتی پشتوں اور ایل بی او ڈی (LBOD) نظام کی حالت کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ سیلابی حفاظتی بندوں کا سروے مسلح افواج کے تعاون سے تیزی سے جاری ہے۔
ہنگامی صورتحال کے پیش نظر نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پاکستان ریلوے کو بھی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے درمیان 24 گھنٹے فعال رہنے والا رابطہ کاری کا نظام قائم کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ایل نینو کے اثرات کے باعث خریف کی فصلیں شدید گرمی اور پانی کی کمی سے متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے چاول، کپاس، مکئی اور گنے کی پیداوار کو نقصان پہنچنے سے غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کو بڑے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ سندھ بھر میں 41 ہزار 600 سے زائد تربیت یافتہ رضاکار ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بلکل تیار ہیں، جن میں سول ڈیفنس، ریسکیو اسکاؤٹس، پاکستان ریڈ کریسنٹ اور این ڈی ایم اے کے رضاکار شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی میڈیا، کمیونٹی ریڈیو اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بروقت وارننگز پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ سندھ حکومت نے دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں مینگرووز کی بحالی، اسپنج سٹی منصوبہ بندی اور ہیٹ ویو ایکشن پلان کو وسعت دینے سمیت سندھ کلائمیٹ انفارمیشن سسٹم کے قیام کی تجاویز بھی پیش کیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









