ویزا لگوانے سے پہلے یہ غلطی نہ کریں، ورنہ بہت بڑا نقصان ہو سکتا ہے

Avoid This Visa Mistake First
بیرون ملک جانے اور مختلف ممالک کا ویزا حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کے لیے بیورو آف امیگریشن اینڈ ایمپلائمنٹ ایکسچینج نے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ادارے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ویزا درخواست کے لیے اپنی دستاویزات کی تصدیق کروانے میں کسی غیر مجاز ایجنٹ کی خدمات ہرگز استعمال نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنا نہ صرف ویزا مسترد ہونے کا سبب بن سکتا ہے بلکہ مستقبل میں بھی سنگین قانونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
بیورو آف امیگریشن کے مطابق حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ کچھ افراد ویزا کے حصول کے لیے غیر قانونی ایجنٹوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ یہ ایجنٹ جعلی مہریں، فرضی دستخط اور غیر قانونی طریقے استعمال کرکے سرکاری دستاویزات کی تصدیق کا تاثر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ عمل آسان لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ویزا درخواست گزار کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔
ادارے نے واضح کیا کہ بعض درخواست گزار جان بوجھ کر یا لاعلمی میں جعلی دستاویزات اپنی ویزا درخواست کے ساتھ جمع کروا دیتے ہیں۔ ان میں جعلی تعلیمی اسناد، بینک اسٹیٹمنٹس، پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹس اور دیگر اہم کاغذات شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر متعلقہ ملک کے حکام کو ان دستاویزات میں جعل سازی کا شبہ ہو جائے تو درخواست فوری طور پر مسترد کی جا سکتی ہے۔
بیورو آف امیگریشن نے خبردار کیا ہے کہ جعلی دستاویزات استعمال کرنے کے نتائج صرف ویزا مسترد ہونے تک محدود نہیں رہتے۔ ایسے افراد کو متعلقہ ملک میں داخلے پر مستقل پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں اگر کوئی شخص جعلی دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک پہنچ جائے تو اسے گرفتار کرکے ملک بدر (ڈی پورٹ) بھی کیا جا سکتا ہے۔
ادارے کے مطابق اس قسم کی جعل سازی سے نہ صرف متعلقہ فرد متاثر ہوتا ہے بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اسی لیے ایسے غیر قانونی کاموں میں ملوث افراد اور جعلی ایجنٹوں کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذریعے قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











