پیر، 24-اگست،2026
پیر 1448/03/11هـ (24-08-2026م)

بی آئی ایس پی کا ادائیگی نظام ڈیجیٹل والٹس پر منتقل

24 اگست, 2026 14:39

سینیٹر روبینہ خالد کا کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کو مرحلہ وار ڈیجیٹل والٹس میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے زونل آفس 501 کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں مستحق خواتین کو مالی امداد کی ادائیگی کے نئے ڈیجیٹل نظام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ نئے نظام کا مقصد رقم کی وصولی کے عمل کو آسان بنانا اور خواتین کو ماضی میں پیش آنے والی مشکلات سے نجات دلانا ہے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کو مرحلہ وار ڈیجیٹل والٹس میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کے تحت مستحق خواتین کو رقم حاصل کرنے کے لیے دور دراز علاقوں میں قائم ادائیگی مراکز کے بار بار چکر نہیں لگانا پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا تیزی سے ڈیجیٹل نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں بھی مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اسی ضرورت کو دیکھتے ہوئے بی آئی ایس پی میں ڈیجیٹل ادائیگی کا طریقہ متعارف کروایا گیا ہے۔

نئے نظام کے تحت جب مستحق خاتون کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوگی تو اسے موبائل فون پر پیغام کے ذریعے اطلاع دی جائے گی۔ اس سے خواتین کو ادائیگی کی رقم کے بارے میں بروقت معلومات مل سکیں گی۔ انہیں رقم کے حصول کے لیے غیر ضروری انتظار سے بھی بچنے میں مدد ملے گی۔

روبینہ خالد کے مطابق مستحق خواتین اپنے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے رقم وصول کر سکیں گی۔ انہیں کسی ایک مخصوص بینک تک محدود نہیں رکھا جائے گا۔ خواتین مختلف بینکوں میں موجود اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے کسی بھی متعلقہ بینک سے رقم حاصل کر سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے طریقہ کار میں ادائیگی حاصل کرنے کی سہولت ہفتے کے ساتوں دن دستیاب ہوگی۔ اس طرح خواتین اپنی سہولت کے مطابق رقم وصول کر سکیں گی۔ اس اقدام سے ادائیگی کے موجودہ نظام میں مزید آسانی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے بتایا کہ ایک ہی مرحلے میں 90 لاکھ خواتین کے اکاؤنٹس بنائے گئے اور انہیں ادائیگیاں بھی کی گئیں۔ یہ عمل ڈیجیٹل نظام کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ مستقبل میں مزید مستحق خواتین کو بھی اس نظام سے منسلک کیا جائے گا۔

روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگی سے خواتین کو کئی پرانی مشکلات سے نجات مل سکتی ہے۔ ماضی میں بعض خواتین کو رقم حاصل کرنے کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا۔ انہیں ادائیگی مراکز پر انتظار بھی کرنا پڑتا تھا۔ نئے نظام میں ان مسائل کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی امداد صرف رقم دینے کا نام نہیں۔ مستحق خواتین کو یہ سہولت باعزت انداز میں ملنا بھی ضروری ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام خواتین کو زیادہ آسان اور بہتر طریقے سے مالی معاونت فراہم کرنے میں مدد دے گا۔

سینیٹر روبینہ خالد نے بینظیر بھٹو کے وژن کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ مستحق خواتین کو مالی مدد باعزت طریقے سے فراہم کی جائے۔ بی آئی ایس پی اسی مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی کے مطابق پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مالی معاونت کا اثر صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ ان کے خاندانوں اور بچوں تک بھی پہنچ رہا ہے۔

حکام کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام شفافیت اور سہولت کو بہتر بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ موبائل پیغام کے ذریعے رقم منتقل ہونے کی اطلاع ملنے سے مستحق افراد کو اپنے پیسوں کے بارے میں بروقت معلومات حاصل ہوں گی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔