پیر، 24-اگست،2026
پیر 1448/03/11هـ (24-08-2026م)

دنیا بھر کے 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا حکومت پاکستان کو خط، عمران خان کے مناسب علاج کا مطالبہ

24 اگست, 2026 14:17

مختلف ممالک کے 21 سابق کرکٹ کپتانوں نے 6 ماہ کے دوران حکومت پاکستان کو دوسرا خط لکھ کر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مناسب علاج اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا۔

دنیا بھر کے 21 معروف سابق کرکٹ کپتانوں نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران حکومت پاکستان کو دوسرا خط تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے سابق وزیراعظم اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے مناسب اور معیاری علاج کا مطالبہ کیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس خط پر کسی بھی سابق پاکستانی کرکٹ کپتان کا نام شامل نہیں ہے۔

خط کے متن میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سابق کپتان کا اسپتال میں قیام صرف چند گھنٹوں تک محدود رہا اور سپریم کورٹ کی ہدایت کردہ میڈیکل بورڈ کے بجائے سرکاری طور پر مقرر کردہ ٹیم نے ان کا معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر فٹ قرار دے کر واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا، جو کہ تشویشناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بانی پی ٹی آئی کی طرح نجی اسپتال سے علاج کی سہولت دی جائے، اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں نے درخواست دائر کردی

خط میں سابق کپتانوں نے حکومت پاکستان سے 3 بنیادی مطالبات کیے ہیں، جن میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق میڈیکل بورڈ کے ذریعے سابق کپتان خصوصاً ان کی دائیں آنکھ کی مبینہ بینائی میں کمی کا مکمل علاج کروانا، میڈیکل بورڈ کو ان کا آزادانہ معائنہ کرنے کی اجازت دینا اور ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں یقینی بنانا شامل ہیں۔

دستخط کرنے والے عالمی کپتانوں نے وضاحت کی ہے کہ وہ یہ اپیل کسی سیاستدان کی حیثیت سے نہیں کر رہے، بلکہ کرکٹ کے میدان میں عمران خان کے سابق ساتھیوں اور حریفوں کی حیثیت سے کر رہے ہیں اور ان کا پاکستان کے داخلی یا قانونی امور میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال فروری میں بھی 14 سابق کپتانوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق خط لکھا تھا، اور اب مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر، ایلسٹر کک، سنیل گواسکر، ایڈم گلکرسٹ، ناصر حسین، کلائیو لائیڈ اور کپل دیو سمیت 21 عالمی کرکٹرز نے یہ نئی اپیل دائر کی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔