میر رضا قتل کیس: اہلخانہ نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے کیخلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

میر رضا علی خان قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے کے خلاف مقتول کے اہلخانہ نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔
میر رضا علی خان کے اہلخانہ نے سندھ حکومت کی جانب سے کیس کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔ مقتول کے اہلخانہ نے جبران ناصر ایڈووکیٹ کے توسط سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے حکومت کے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل جبران ناصر کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز میڈیا کے ذریعے یہ اطلاع ملی تھی کہ جوڈیشل کمیشن کے لیے ہائیکورٹ کے ایک جج کو نامزد کیا جا رہا ہے، تاہم حکومت کے اس فیصلے کی کاپی ابھی تک مقتول کی فیملی کو فراہم نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : پولیس نے میر رضا کا واٹس ایپ اکاؤنٹ اور بیک اپ ڈیٹا حاصل کرلیا
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ کو بھی خط لکھا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن صرف فائنڈنگ دے سکتا ہے، جس کی فیملی حمایت نہیں کر رہی، کیونکہ اصل کام تفتیش کا ہے، جو پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے کرنا ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ تفتیشی حکام سے یہ سوال ہونا چاہیے کہ کیس کے اہم شواہد کیسے ضائع ہوئے، اور ان ذمہ دار حکام کے خلاف اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پرانی تفتیشی ٹیم سے بھی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے خلاف کسی قدم کی اطلاع ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت جوڈیشل کمیشن ان کیسز میں بنتا ہے، جن میں کمیٹی کی سفارش ہو، لیکن اس کیس میں تمام متعلقہ اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تفتیشی افسر آج مجسٹریٹ کے سامنے پیش تو ہوئے ہیں لیکن انہوں نے نہ تو کسی ملزم کو نامزد کیا ہے اور نہ ہی کسی ضمنی چالان کی کوئی امید دکھائی دے رہی ہے۔ اسی بنا پر آج عدالت عالیہ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے تاکہ کیس کی درست اور شفاف تفتیش کو یقینی بنایا جا سکے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









