منگل، 25-اگست،2026
منگل 1448/03/12هـ (25-08-2026م)

خلیجی ممالک سے 21 ہزار 951 پاکستانی ڈی پورٹ

25 اگست, 2026 11:30

قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے جولائی 2026 کے دوران خلیجی ممالک سے 21 ہزار 951 پاکستانی شہری مختلف وجوہات کی بنا پر ڈی پورٹ کیے گئے۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ مذکورہ مدت کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان سے پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا گیا۔

حکومت کے مطابق ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی شہریوں میں ایسے افراد بھی شامل تھے جو متعلقہ ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔ اس کے علاوہ ویزا اور اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو بھی ملک بدر کیا گیا۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق منشیات سے متعلق مقدمات، مفروری اور دیگر مقامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث پاکستانی شہری بھی ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں شامل تھے۔

حکام کے مطابق متعلقہ خلیجی ممالک میں گرفتار پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کے لیے پاکستانی سفارتخانوں نے ضروری سفری دستاویزات جاری کیں۔ ایمرجنسی سفری دستاویزات کے اجرا کے بعد ان شہریوں کو پاکستان واپس بھیجا گیا۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ اپنی مرضی سے وطن واپس آنے والے پاکستانی شہریوں کو ان اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا گیا۔ جاری کردہ تعداد صرف ان افراد سے متعلق ہے جنہیں مختلف وجوہات کی بنا پر متعلقہ ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا۔

حکومت نے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ میزبان ممالک کے قوانین کی مکمل پابندی کریں۔ حکام کے مطابق ویزا، اقامہ اور دیگر قانونی شرائط کی خلاف ورزی ڈی پورٹیشن سمیت سنگین مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔

دوسری جانب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے بھی حکومتی اقدامات جاری ہیں۔ اسلام آباد اور پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق معاملات کے لیے خصوصی عدالتیں فعال کردی گئی ہیں۔

حکومت کے مطابق خصوصی عدالتوں کے قیام کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کی املاک سے متعلق تنازعات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانا ہے۔ اس اقدام سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی جائیدادوں کے قانونی معاملات کے حل میں سہولت ملنے کی توقع ہے۔

حکومت نے خلیجی ممالک کا سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ روانگی سے قبل اپنے ویزا، اقامہ اور دیگر سفری دستاویزات کی میعاد اور درستگی ضرور چیک کریں۔

حکام نے پاکستانی شہریوں پر یہ بھی زور دیا ہے کہ وہ میزبان ممالک کے مقامی قوانین کی پابندی یقینی بنائیں۔ حکومت کے مطابق قانونی دستاویزات مکمل رکھنے اور مقامی قوانین پر عمل کرنے سے ڈی پورٹیشن سمیت دیگر قانونی مشکلات سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔