پیر، 21-ستمبر،2026
اتوار 1448/04/09هـ (20-09-2026م)

اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود جاں بحق، 10 خواتین زخمی

26 اگست, 2026 09:51

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کے گائناکولوجی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکا بتائی گئی ہے۔ آگ نے نرسری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں۔ امدادی اہلکاروں نے آگ بجھانے کے ساتھ متاثرہ حصے کو خالی کروانے کی کارروائی بھی کی۔

پمز اسپتال حکام کے مطابق حادثے کے وقت نرسری میں 16 نومولود موجود تھے۔ ان میں سے صرف ایک بچے کو بچایا جا سکا جبکہ باقی 15 بچے جانبر نہ ہوسکے۔ اس واقعے کے بعد اسپتال میں شدید رنج و غم کی کیفیت پیدا ہوگئی اور متاثرہ خاندانوں میں کہرام مچ گیا۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ اسپتال کی ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی۔ اطلاع ملنے کے بعد فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیاں اور 4 ایمبولینسز موقع پر پہنچیں۔ امدادی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور متاثرہ حصے میں کولنگ کا عمل شروع کیا۔

واقعے کے بعد آگ لگنے کی اصل وجہ اور حفاظتی انتظامات سے متعلق سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔ حکام نے معاملے کی مکمل تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

انکوائری کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات کا جائزہ لے گی اور یہ بھی دیکھا جائے گا کہ واقعے کے وقت اسپتال میں فائر سیفٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات کس حد تک مؤثر تھے۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

صدر اور وزیر اعظم کا 14 بچوں کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس

صدر مملکت اور وزیر اعظم نے پمز اسپتال میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابل تلافی ہے، واقعے کے محرکات کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بچوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ افسوس ناک واقعے پر والدین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

دوسری جانب صدر مملکت آصف زرداری نے 14بچوں کی اموات پر ورثا سے تعزیت کی، انہوں نے کہا کہ بچوں کی المناک اموات انتہائی دلخراش اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، اسپتالوں میں مؤثر فائر سیفٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔

وزیر اعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

وزیر اعظم شہبازشریف نے متعلقہ حکام کو اجلاس میں شرکت اور وزیرصحت مصطفی کمال کو فوری پمزاسپتال جا کر صورتحال کا جائرہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے تحقیقات کیلئے8رکنی انکوائری کمیٹی بنادی، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

انکوائری کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کریں گے، کمیٹی میں کیپٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی اور ایس پی سٹی شامل ہیں۔

کمیٹی میں اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن ، ڈی جی سی ڈی اے،  آئیسکو اور پمز اسپتال کے افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

انکوائری کمیٹی تحقیقات کے بعد 24گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی۔

نرسری میں نہ گائنی ڈاکٹر موجود تھی اور نہ ہی کوئی دوسرا عملہ موجود تھا، والدین کا الزام

والدین نے الزام لگایا ہے کہ جس وقت آگ لگی عملہ انکیوبیشن سینٹر میں نہیں تھا، ہمیں صرف یہ بتا دیا گیا کہ بچے جاں بحق ہو گئے ہیں، یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا، ہمارے بچے غائب کیے گئے، ہم میں سے کسی نے بچے کے کپڑے بھی نہیں دیکھے، ہمیں یقین آنا چاہیے کہ ہمارے بچے جھلس کر ہی مرے ہیں۔

متاثرہ خاتون نے کہا کہ ایک گھنٹے تک کوئی بھی ڈاکٹر یا عملہ نہیں آیا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آگ لگی تو کسی اور وارڈ میں کسی ایک بھی شخص کو خراش تک نہیں آئی۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر کی میڈیا سے گفتگو

ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں آگ لگنے کے وقت عملہ موجود تھا، اسپتال میں 2ڈاکٹرز اور 4نرسز موجود تھیں، ایک ڈاکٹر نے بچے کی جان بچائی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بچے چوری کے واقعات کے باعث داخلہ محدود تھا، فائر سسٹم اسپتال میں موجود ہے، کوئی بھی قصور وار پایا گیا تو کارروائی ہو گی، 24آکسیجن  سلنڈرز موجود تھے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔