بوٹ بیسن منشیات کیس؛ تفتیشی افسر عدالت میں ہتھکڑیوں کے ساتھ پیش، ملزمان ضمانت پر رہا

سندھ ہائیکورٹ نے بوٹ بیسن میں مبینہ منشیات برآمدگی کیس کی تفتیش میں سنگین تاخیر پر پولیس کے تفتیشی افسر کی سرزنش کرتے ہوئے دو ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ملزمان فیصل اور یعقوب کی درخواست ضمانت پر سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی، جہاں بوٹ بیسن پولیس نے مقدمے کے تفتیشی افسر ناصر خان کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا۔
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے تفتیشی افسر کے عدالت کے طلب کرنے کے باوجود پیش نہ ہونے اور مقدمے کا چالان پانچ ماہ گزرنے کے باوجود جمع نہ کرانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے سوال کیا کہ طلب کیے جانے کے باوجود تفتیشی افسر عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوا اور اب تک چالان کیوں جمع نہیں کرایا گیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کے تفتیشی نظام پر بھی سخت ریمارکس دیے اور کہا کہ ملزمان کئی ماہ سے جیل میں ہیں جبکہ تفتیشی افسر کی جانب سے مقدمے کا چالان تک پیش نہیں کیا گیا۔
تفتیشی افسر ناصر خان نے عدالت کو بتایا کہ مالی مشکلات کے باعث چالان جمع نہیں کراسکا۔ اس پر عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی افسر سے متعلق پولیس کے انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ناصر خان اس وقت معطل ہے اور اس کی ریٹائرمنٹ میں تقریباً ساڑھے تین سال باقی ہیں۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے متعلقہ حکام کو تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے سوال کیا کہ ایسے افسر کو ترقی کیسے دی گئی۔
بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان فیصل اور یعقوب کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو دو، دو لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔
عدالت نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔
وکیل صفائی مامون شیروانی ایڈووکیٹ کے مطابق ملزمان کے خلاف 20 مارچ کو تھانہ بوٹ بیسن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور دونوں تقریباً پانچ ماہ سے جیل میں تھے، تاہم اس دوران تفتیشی افسر نے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش نہیں کیا تھا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








