اسلحہ لائسنس اجراء، چیف جسٹس نے متعلقہ حکام سے 7 سوالات کے جواب طلب کرلیئے

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ملک میں ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنز کے اجرا کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ بل 2023کے تحت آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت ازخود نوٹس لینے کے لئے معاملہ سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز پر مشتمل کمیٹی کو بھجوادیا۔
چیف جسٹس نے کہا ہے کہ بادی النظر میں آئین کے آرٹیکل 9اور25کے تحت عوام کے بنیادی انسانی حقو ق کے نفاذ کے حوالہ سے یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔
چیف جسٹس نے متعلقہ حکام سے 7سوالات کے جواب طلب کر لئے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بدھ کے روز ممنوعہ بور کا اسلحہ چوری کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم کاشف کی درخواست ضمانت کے دوران لئے گئے نوٹس کا تین صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔
دوران سماعت ملزم کی جانب سے شبیرحسین گجیانی بطور وکیل پیش ہوئے تھے جبکہ مدعی مقدمہ عمران وزیر ذاتی حیثیت میں ہوئے تھے، جبکہ ریاست کی جانب سے کیس کے تفتیشی اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا الطاف خان پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے کیس کا تحریری حکم جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کو کیس کو 184(3) کے تحت رجسٹرڈ کرنے کا حکم دیا ہے،حکم میں کہا گیا ہے کہ ضمانت کے مقدمہ کی سماعت کے دوران ممنوعہ بور کا لائسنس سامنے آیا، عدالتی استفسار پر تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ مالک سے لائسنس بارے تحقیقات نہیں کی گئی، دوران سماعت عدالت میں ڈی آئی جی مردان محمدسعید کی جانب جاری کیا گیا مجوزہ لائسنس عدالت کو دکھایا گیا۔
چیف جسٹس نے متعدد سوالات کے جواب طلب کئے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
چیف جسٹس نے سوال کیا ہے کہ کس قانونی اختیار کے تحت ڈی آئی جی مردان ریجن 1، کی جانب سے ممنوعہ اسلحہ رکھنے کا اجازت نامہ جاری کیا گیا، جس کے تحت ممنوعہ ہتھیا ایم ایم جی رکھنے کا لائسنس تصور کیا جائے؟، آیا ایس ایم جی اوردیگر ممنوعہ بورکے لائسنس جاری کیئے جاسکتے ہیں؟۔
اگر مندرجہ بالادونوں سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو پھر متعلقہ قانون اور پروسیجر اورکون سے افراد ہیںجو چھوٹ دینے اور لائسنسز جاری کرنے کے مجاز ہیں؟ ایس ایم جیز اور دیگر ممنوعہ بور کے پرمٹس سمیت کتنے لائسنز جاری کئے گئے ہیں؟۔
کتنی تعدادمیں ملک میں ایس ایم جی اوردیگر ممنوعہ اسلحہ نجی طور پر زیر استعمال ہے؟ ،آیا کچھ کیٹیگریز کے افراد کو ااستثنیٰ دینا یا انہیں ایم ایم جیز یا دیگر اسلحہ کے لائسنس حاصل کرنے کی اجازت دینا آئین کے آرٹیکل 25 کے مطابق ہے جو کہتا ہے کہ تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں؟ ۔
یہ بھی پڑھیں: فیض آباد دھرنا کیس کی اہم سماعت کل ہوگی
کیا ایس ایم جیز اوردیگر ممنوعہ بور کے ہتھیاروں کی آسانی سے دستیابی آئین کے آرٹیکل 9 کے مطابق ہے جس کے تحت آئین نے زندگی کے بنیادی حق کی گارنٹی دی ہے؟
چیف جسٹس نے معاملہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے ذمرے میں آنے کا جائزہ کے لئے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کے تحت تین سینئر ترین ججز پر مشتمل کمیٹی کو بھجوادیا ہے۔
سپریم کورٹ نے معاونت کے لئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اورتمام صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردئیے ہیں،جبکہ سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ، چاروں صوبوں کے ہوم سیکرٹریز اور انسپیکٹر جنرلز آف پولیس سے ایک ماہ میں الگ، الگ رپورٹ طلب کرلی ہے، جبکہ دوران سماعت چیف جسٹس نے مدعی مقدمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے توسط سے کوئی فائدہ ہی ہو گیا۔
چیف جسٹس نے اسلحہ چوری کے کیس میں نامزد ملزم کاشف کی 50 ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منطور کرلی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ کے اطمینان کے مطابق ضمانتی مچلکے جمع کروائے جائیں، یہ مزید انکوائری کا کیس بنتا ہے۔
واضح رہے کہ ملزم کے خلاف خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے تھانہ کالو خان میں 20 دسمبر 2022 کو ممنوعہ بور کا اسلحہ زیورات اور موبائل فونز چوری کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت پر 5 دسمبر 2023 کو سماعت کرتے ہوئے شکایت کندہ اور دیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیا تھا۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












