فیض آباد دھرنا کیس کی اہم سماعت کل ہوگی

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اورجسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ کل فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع کے حوالہ سے وفاقی حکومت کی جانب سے دائر متفرق درخواست پرسماعت کرے گا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے کمیشن کی مدت میں توسیع کے لئے درخواست اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست کار لسٹ میں آخری 10 ویں نمبرپر سماعت کے لئے مقررکی گئی ہے۔ اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان پیش ہوکر دلائل دیں گے۔
واضح رہے کہ جنوری2024 کے تیسرے ہفتے میں انکوائری کمیشن نے رپورٹ تیار کر کے سپریم کورٹ میں جمع کرانا تھی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے کمیشن کی مدت میں توسیع کے لئے دائر درخواست میں مئوقف اپنایا گیاہے کہ سپریم کورٹ کی دی گئی تاریخ پر فیض آباد کمیشن رپورٹ کو حتمی شکل نہیں دے سکتا، انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع کی جائے۔
واضح رہے کہ کیس کی آخری سماعت پر 15نومبر کو ہوئی تھی جس میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیلئے تین رکنی انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کیا تھا، نوٹیفکیشن اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔
وفاقی حکومت نے ریٹائرڈ آئی جی پولیس اختر علی شاہ کی سربراہی میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا، تین رکنی کمیشن میں سابق آئی جی پولیس اسلام آباد طاہر عالم خان اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ خوشحال خان بھی شامل ہیں، جبکہ عدالت نے نوٹیفیکیشن میں درستگی کے لئے اٹارنی جنرل کو ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔
اٹارنی جنرل نے استدعا کی تھی کہ کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لئے دو ماہ کا وقت دیا جائے جسے عدالت نے منظور کر لیاتھا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 22جنوری تک ملتوی کردی تھی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سیکرٹری دفاع کے توسط سے حکومت پاکستان اور دیگر کی جابنب سے فیض آباد دھرنا کیس میں دائر نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی تھی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن پیش کیا ۔ بینچ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل نے نوٹیفکیشن پڑھ کرسنایا۔
کمیشن کے ٹی اوآرز میں میں کہا گیا ہے کہ انکوائری کمیشن قیام کے 2 ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا، انکوائری کمیشن ٹی ایل پی کی غیر قانونی مالی امداد کرنے والوں کی تحقیقات کرے گا، کمیشن فیض آباد دھرنے کے حق میں بیان اور فتوی دینے والوں کے خلاف ایکشن تجویز کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: فیض آباد دھرنا کمیشن کا تحریک لبیک کے عہدیداران کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ
نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیشن تعین کرے گا کہ کوئی پبلک آفس ہولڈر قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب تو نہیں ہوا، انکوائری کمیشن فیض آباد دھرنے کے ذمہ داران کے خلاف ایکشن تجویز کرے گا۔
اس کے علاوہ انکوائری کمیشن پیمرا رولز کی خلاف ورزی کرنے والے کیبل آپریٹرز اور براڈ کاسٹرز کے خلاف تحقیقات کرے گا، کمیشن میڈیا اور سوشل میڈیا پر نفرت اور تشدد پھیلانے کی جانچ اور اس سے بچا کی تجاویز دیگا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق کمیشن تعین کریگا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں، سرکاری ملازم یا اشخاص فیض آباد دھرنے میں ملوث ہیںیا نہیں، کمیشن پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھرنوں، ریلیوں، احتجاج سے نمٹنے کی تجاویز بھی دیگا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سماعت کا حکم لکھواتے ہوئے کہا تھا کہ اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن پیش کیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹی او آرز میں شامل کیا جائے گا کہ نظر ثانی درخواستیں دائر کرنا حادثہ تھا یا کسی کی ہدایت، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ٹی او آرز ایک ہفتے میں شامل کر لیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اب کیس دو ماہ بعد سنیں گے، جس پر اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ سماعت 20 جنوری کے بعد کی جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو استثنیٰ نہیں سب کو کمیشن بلا سکتا ہے، حکم نامے میں کہا گیا کہ کمیشن سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم حیدر کی جانب سے نام لیے گئے افراد کو بھی بلانے کا اختیار رکھتا ہے۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












