ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد مستقبل کا منظر نامہ کیا ہوگا؟

ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد مستقبل کا منظر نامہ کیا ہوگا؟
اسرائیل نے بروز ہفتہ صبح صادق تہران، خوزستان اور ایلام میں مختلف ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائیل کا حملہ فوجی اہداف تک محدود تھا، جس میں جدید ایف 35 طیاروں اور حملہ آور ڈرونز نے حصہ لیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران پر حملے سے پہلے شامی ائیرڈیفنس کو نشانہ بنایا گیا، تاکہ ایران ‘بلینڈ’ ہو جائے اور حملے کا ٹھیک اندازہ نہ کر سکے۔ ایران کے فوجی اہداف پر ہونے والے حملے کو ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام نے بڑی حد تک ناکام بنا دیا۔
حملےمیں ایران کا کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ ایران نے سپاہ پاسداران کے دو فوجیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ ایران نے اہم شخصیات، جوہری تنصیبات اور آئل ریفائنریوں کو اپنی ریڈ لائن قرار دیا تھا۔ ابھی تک ان تینوں اہم اہداف میں سے کسی کو نقصان پہنچنے کی خبر نہیں۔
ایسے میں سوال ہے کہ اسرائیل نے اہم اسٹراٹیجک و اقتصادی اہداف کو نشانہ کیوں نہیں بنایا؟
اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائرلپیڈ نے کہا ہے ایرانی اسٹریٹجک، اقتصادی اہداف پرحملہ نہ کرنا غلط فیصلہ تھا، حملوں سے ایران کو بھاری نقصان ہونا چاہیے تھا۔
یکم اکتوبر کو ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے کے بعد اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو کے متعدد رہنماوں و ملٹری اسٹبلشمنٹ کی طرف سے ایران کی جوہری و تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر زور دیا گیا، کچھ تو ایران کے اندر نظام حکومت کی تبدیلی کے خواب بھی دیکھنے لگے۔
ایران نے اہم شخصیات، جوہری تنصیبات اور آئل ریفائنریوں کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے امریکہ و اسرائیل پر واضع کیا تھا کہ ان میں سے کسی ایک پر بھی حملہ ہوا تو ایران اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کرکے اسے تباہ و برباد کر دے گا، امریکہ کی مدد کی صورت مشرق وسطی میں موجود اس کے بحری بیڑوں اور فوجیوں کوبھی نشانہ بنایا جائے گا، اور آبنائے ہرمز کو بند کرکے توانائی و تجارت کا عالمی بحران کھڑا کر دیا جائے گا۔
ایران کی طرف سے فیصلہ کن منہ توڑ جواب اور بڑی علاقائی جنگ چھڑنے کے خوف نے امریکہ و اسرائیل کو مجبور کیا کہ وہ صرف ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے تک محدود رہیں۔
اسرائیل کا ایران کی اہم شخصیات، جوہری تنصیبات اور آئل ریفائنریوں کو نشانہ نہ بنانا بین الاقوامی قانون یا امریکی تاکید یا اثرورسوخ کی وجہ نہیں، بلکہ تباہ کن میزائلوں سے اسرائیل پر یکم اکتوبر سے بھی زیادہ مہلک حملے کی ایرانی دھمکی نے اسرائیل کو ایران کی اہم اسٹراٹیجک و اقتصادی تنصیبات و شخصیات پر حملے سے باز رکھا اور اسرائیل نے محدود حملہ کر کے فیس سیونگ سے خطے میں طاقتور فوجی قوت ہونے کا امیج بحال کرنے کی کوشش کی۔
اس وقت دنیا کی نظریں ایران کے جوابی حملے پر مرکوز ہیں اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایران اسرائیل پر جوابی حملہ کرے گا؟
ایران کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں اسرائیلی جارحیت کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ایران کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے،تاہم ایران علاقائی امن اور سلامتی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرتا ہے۔
بظاہر اسرائیلی حملے میں فوجی تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچا ہے، اس صورت ایران کشیدگی کو کم کرتے ہوئے مزید حملہ نہیں کرے گا اور یوں یکم اکتوبر کو ایران کے حملے سے شروع ہونے والا لڑائی کا یہ راؤنڈ مکمل ہو جائے گا، خطے میں بڑی جنگ نہیں چھڑے گی۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایران کی ڈیٹرنس بحال ہوئی ہے؟
یکم اکتوبر کو اسرائیل پر حملے سے پہلے اسرائیل نے ایران کو مکمل دیوار سے لگا دیا تھا، اسرائیل نے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پرفضائی حملہ سے اہم کمانڈروں کو شہید کر کے جارحیت کا ارتکاب کیا، ایران کےریاستی مہمان اسماعیل ہنیہ کو تہران میں شہید کیا، تاہم یکم اکتوبر کو 200 میزائلوں سے اسرائیل پر ایرانی حملے نے تمام منظر نامہ تبدیل کر دیا۔
اسرائیل کا ایران کے صرف فوجی اہداف تک محدود حملہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ یکم اکتوبر کو ایران کا اسرائیل پر حملہ کامیاب تھا، جس نے اسرائیل کے فوجی اہداف کو نقصان پہنچانے کےساتھ ایران کی ڈیٹرنس کو بھی بحال کیا اور اسرائیل کو ایران کی جوہری تنصیبات، اہم شخصیات یا آئل ریفائنریوں پر حملے سے باز رکھا ہے۔ یاد رہے ایران کا میزائل پروگرام دراصل اس کا دفاعی پوسچر ہے، جس کا مقصد دشمن کو بڑے حملے سے باز رکھنا ہے۔
اسرائیلی حملے کے بعد مستقبل میں ایران –اسرائیل جنگ کی نوعیت کیا ہو گی؟
اسرائیل پر حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی گروپوں کے حملے جاری رہیں گے اور یوں ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست کے بجائے انڈائریکٹ خفیہ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی، جس میں بلواسطہ ایک دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
یکم اکتوبر سے پہلے کے رولز آف اینگیجمنٹ کا بحال ہونا، ایران کی کامیابی تصور ہو گی۔ ایران کے خلاف بڑے حملے سے باز رہنے کی ایک وجہ حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں اسرائیل کے خلاف بھرپور مزاحمت اور اسرائیل پر تابڑتوڑ حملے بھی ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کےمطابق حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے خلاف سخت حریف ثابت ہو رہی ہے، اور بڑے نقصانات کے بعد سنبھل چکی ہے۔ اسرائیل اس خوش فہمی میں تھا کہ وہ حزب اللہ کی فوجی و سیاسی قیادت کو شہید کرکے حزب اللہ کو مکمل ختم کر چکا، لیکن حزب اللہ کے ہاتھوں 70 سے زائد فوجیوں کی ہلاکت سے اس کی خوش فہمی دور ہو گئی ہے۔ ایک مضبوط حزب اللہ کے ساتھ جنوبی لبنان کےسرحدی علاقے میں سخت جنگ کی موجودگی میں اسرائیل کے لیے ایران کے خلاف بڑا حملہ کرنا ممکن نہیں، کیونکہ اس صورت حزب اللہ و ایران کے مشترکہ حملے سے اسرائیل کی تباہی یقینی ہو سکتی ہے۔
نوٹ: جی ٹی وی نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












