فائز عیسیٰ کی رخصتی؛ سپریم کورٹ دوبارہ انصاف کے راستے پر گامزن ہوسکے گی؟

فائز عیسیٰ کی رخصتی؛ سپریم کورٹ دوبارہ انصاف کے راستے پر گامزن ہوسکے گی؟
پاکستان کے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ آئندہ 60 سال تک کوئی باپ کا باپ نہیں بن سکے گا۔
سینیٹر فیصل کا کوئی انتخابی حلقہ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود وہ نامعلوم قوتوں کی ایماء پر پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے ووٹوں سے سینیٹ آف پاکستان کے رکن بن گئے، جہاں تک اُن کا یہ کہنا کہ اب 60 سالوں تک کوئی باپ کا باپ نہیں بن سکتا بڑا معنی خیزہے، وہ کس کو باپ اور کس کو باپ کا باپ کہہ رہے تھے، سینیٹر فیصل نے یہ بیان 26 ویں آیئنی ترمیم کی پارلیمنٹ سے منظوری کے تناظر میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر کھڑے ہوکر دیا، اس موقع پر اُنھوں نے اپنے ہاتھ سے نشان بھی بنایا لیکن اُس کا مطلب اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں کیونکہ ہماری اُٹَّھک بَیْٹَھک ایسے لوگوں میں نہیں جو نشانات کی زبان جانتے ہیں، اب آتے ہیں سینیٹر فیصل کے پُر معنیٰ بیان کی طرف، باپ کا تو اندازہ ہوگیا ہے، وہ کس کو باپ سمجھتے ہیں، وہی نہیں بڑے بڑے لوگوں نے اِن طاقتوروں کو باپ بنایا ہوا ہے، غور اس بات پر کیا جانا ہے کہ باپ کا باپ اُنھوں نے کس کو کہا ہے؟ پہلا خیال تو پاکستان کی سپریم کورٹ طرف جاتا ہےکیونکہ 26 ویں آئینی ترمیم اُن کے ہی متعلق تھی لیکن وہ تو پہلے ہی باپ کی آنکھوں کے اشارے پر چلتے ہیں ،جسٹس منیر سے لیکر جسٹس فائز عیسیٰ تک تو ایسا ہی ہے، دوسرا خیال پارلیمنٹ کی طرف جاتا ہے ویسے تو باپ کا باپ پارلیمنٹ کو ہی ہونا چاہئے مگر آج تک پارلیمنٹ نے باپ کے باپ ہونے کی ذمہ داری نہیں اُٹھائی بلکہ ربڑ اسٹامپ بننا زیادہ مناسب سمجھا، پاکستان کی پارلیمنٹ عوام کی منتخب کردہ ہوتی ہے لیکن اس میں بیٹھنے والے چند افراد باپ کی مدد سے یہاں تک پہنچتے ہیں، 26 ویں آئینی ترمیم جس طرح منظور کی گئی اُس سے تو یہی ثابت ہوا ہے، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحٰمن نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے دوران آگاہ کردیا تھا کہ اگر اُن کی جماعت پیپلزپارٹی کیساتھ حتمی شکل دی گئی آئینی ترمیم کو ووٹ نہیں دے گی تو اُن کے ارکان سے طاقتور افراد زبردستی آئینی ترمیم کو ووٹ دلوائیں گے، یہ بات پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری راجہ سلمان اکرم نے ایک پریس کانفرنس میں بتائی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان اور پالیمنٹ کیلئے باپ کے باپ ہونےکا سوال ختم ہونے کے بعد ہم دوبارہ باپ کے باپ کو تلاش کرتے ہیں، سینیٹر فیصل واڈا جس جماعت سے باہر آئے ہیں شاید اُس کے سربراہ کو باپ کا باپ سمجھتے ہیں کیونکہ اُس کی مقبولیت باپ سے بھی زیادہ ہوچکی ہے، وہ جیل میں ہیں اور باہر بیٹھے ہوئےطاقتور لوگ اُن سے خوفذدہ ہیں، سیاستدان اُس کی سیاست کو اپنی سیاست کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں، باغی ارکان عوام میں جانے سے ڈرتے ہیں، کرپٹ مافیا اور نوکر شاہی اپنے احتساب سے ڈرتے ہیں۔
26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن نے پریس ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے 26 ویں آئینی ترمیم کے حتمی مسودے میں پوشیدہ زیریلے سانپ کا زہر نکال کر اُس کے دانت توڑ دیئے ہیں معلوم نہیں فضل الرحمٰن نے کس زیریلے سانپ کا ڈنک نکالا ہے اور کس کے دانت توڑے ہیں، حقیقت میں تو سپریم کورٹ پر زور دار مکا مارا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ نہ ہوتے تو 26 ویں آئینی ترمیم منظور نہیں ہوسکتی تھی بات بالکل درست ہے ، فائز عیسی ٰ اگر فلور کراسنگ کرنے والوں کا ووٹ شمار کرنے کا حکم جاری نہیں کرتے تو 26 ویں آئینی ترمیم واقعی منظور نہیں ہوتی، اب دیکھنا ہوگا کہ فائز عیسیٰ کو اس کا صلہ کیا ملتا ہے، آج اُن کی رخصتی کا آخری دن تھا وہ بڑے بے آبرو ہوکر سپریم کورٹ سے نکلیں ہیں اور اپنے آخری خطاب میں بھی اُنھوں نے درست کہا ہے کہ آزادی میں چند گھنٹے رہ گئے ہیں، اُن کے پلے پی ٹی آئی کو بلّا چھینے کا بدنام زمانہ فیصلہ ہے جو اُن کا پیچھا کرتا رہے گا اور عدالتی تاریخ میں اسے مثال کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکے گاالبتہ اُن کا بحیثیت چیف جسٹس پورا دور تنازعات سے بھرپور رہا وکلاء سے بدتمیزی ساتھی ججز کیساتھ ناروا سلوک یہ سب اُن کے پلے بندھے ہیں، سینئر ترین جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ایک اور خط لکھتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ سے متعلق فل کورٹ ریفرنس میں شرکت نہ کرنے کی وجوہات بتائیں کہ چیف جسٹس(ریٹائرڈ) فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں مداخلت روکنے کے بجائے مداخلت کے مزید دروازے کھول دیئے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس کا کردار عوام کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، چیف جسٹس کا کام عدلیہ کا دفاع کرنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ پر بیرونی دباؤ نظر انداز کیا،ایک چیف جسٹس نے عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کرنا ہوتا ہے، اُنھوں نے مزید کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ عدلیہ میں مداخلت پر ملی بھگت کے مرتکب رہے ہیں، یہ بہت زیادہ سنگین الزامات ہیں جو سینئر ترین حاضر جج نے لگایا ہے، ان الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے ، بلاول بھٹو زرداری کا انکشاف کہ جسٹس فائز کےبغیر 26 ویں آئینی ترمیم آئین کا حصّہ نہیں بن سکتی تھی جسٹس منصور شاہ کی جانب سے لگائے گئے ٹھوس الزامات کی تصدیق کرتا ہے، اس وقت پاکستان کی سپریم کورٹ ہی نہیں پورا نظام انصاف سوالیہ بنا ہوا ہے، اقوام متحدہ نے 26 آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ واکر ٹرک نے 26ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی کو شدید مجروح کردے گی، اقوام متحدہ کے مطابق 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ انسانی حقوق کے متعلق لوگوں کو انصاف دینے کے قابل نہیں رہی ہے، سپریم کورٹ کا کڑا امتحان ہے کہ وہ 26 ویں آئینی ترمیم کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے دیتی ہے یا انصاف کی راہ میں رکاوٹوں کو برداشت کرتی ہے۔
نوٹ: جی ٹی وی نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












