غرقاب ٹائی ٹینک کے ملبے سے کوئی انسانی ڈھانچہ کیوں نہیں ملا؟

غرقاب ٹائی ٹینک کے ملبے سے کوئی انسانی ڈھانچہ کیوں نہیں ملا؟
ایک صدی سے زائد عرصے قبل بحر اوقیانوس میں غرق ہونے والے جہاز ٹائی ٹینک میں تقریباً 1500 سے زائد افراد سوار تھے اور ان کے متعلق ایک پریشان کُن سوال آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں ہے۔
اگرچہ بلاک بسٹر فلم نے ہمیں اس تباہی کی جذباتی جھلک دکھائی لیکن ٹائی ٹینک کی قسمت اور اس کے بعد کے بارے میں ابھی بھی بہت کچھ ہے جو راز بنا ہوا ہے۔
جہاز ڈوبنے کے باوجود اس کی کچھ باقیات کو باہر نکالا گیا جب کہ کچھ ابھی بھی زیر سمندر موجود ہے، البتہ اس کے مسافروں کی کئی قیمتی اشیا حکام نکال چکے جو اربوں میں نیلام ہونے میں کامیاب ہوئیں۔
ٹائی ٹینک کے ملبے سے برتن، جوتے، فرنیچر، اور یہاں تک کہ ذاتی خزانے بھی ملے مگر حیران کُن طور پر اس میں سے کوئی انسانی ڈھانچہ نہ مل سکا۔
سانحے میں 1,517 افراد کی ہلاکتوں کے باوجود ٹائی ٹینک کی باقیات کے قریب سمندر کی تہہ پر کبھی کوئی لاش نہیں ملی۔
بہت سے مسافر ٹھنڈے پانی میں تیرتے ہوئے ہلاک ہوئے جبکہ دیگر ڈوبنے والی کشتی کے اندر پھنس گئے تھے۔
تاہم ملبے کے درمیان انسانی ڈھانچے کا کوئی نشان نظر نہیں آیا جس کی وجہ سے ماہرین نے وضاحت طلب کی ہے۔
اس کا جواب بحر اوقیانوس کی سطح سے 3,800 میٹر نیچے واقع ملبے کی گہرائی میں ہے۔
گہرے سمندر میں بیکٹیریا غذائی اجزاء نکال کر ہڈیوں سمیت نامیاتی مواد کو توڑ سکتے ہیں۔ لیکن ایک اور عنصر ہڈیوں کی غیر موجودگی میں کردار ادا کرتا ہے۔
1980 کی دہائی میں ٹائی ٹینک کے ملبے کو دریافت کرنے والے معروف سمندر کے ایکسپلورر رابرٹ بیلارڈ نے وضاحت کی کہ ایک خاص گہرائی سے نیچے شدید حالات ہڈیوں کو مکمل طور پر تحلیل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گہرے سمندر میں پانی کیلشیم کاربونیٹ سے بھرا ہوا ہے جب کہ ہماری ہڈیاں بھی انہی معدنیات سے بنتی ہیں۔
رابرٹ بیلارڈ کا کہنا تھا کہ ٹائٹینک کیلشیم کاربونیٹ معاوضے کی گہرائی سے نیچے ہے، لہذا ایک بار جب کریٹر ہلاک مسافروں کا گوشت کھاتے ہیں تو بعدازاں ہڈیاں تحلیل ہوجاتی ہیں۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












