جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

بھارتی عدالت مسلمانوں کو ہراساں کرنیوالے انتہا پسندوں کے دفاع میں آگئی

05 مارچ, 2025 18:33

بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ کسی کو ‘پاکستانی’ کہنا مجرمانہ جرم نہیں ہے، حالانکہ اس اصطلاح کو قابل اعتراض اور ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھا کر انہیں ‘پاکستانی’ قرار دیا گیا  تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس طرح کے ریمارکس مجرمانہ فعل نہیں ہیں۔

یہ فیصلہ جھارکھنڈ کے ایک معاملے میں جاری کیا گیا  جہاں ہندو انتہا پسندوں نے تعصب کی بنیاد پر ایک سرکاری ملازم کو "پاکستانی” اور "میاں تیان” قرار دیا گیا تھا۔

عدالت نے فیصلہ کیا کہ یہ شرائط مجرمانہ دھمکی یا جسمانی حملے کے زمرے میں نہیں آتی لہذا، ملزم کو سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔

قانونی تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نفرت انگیز تقاریر اور جارحانہ تبصروں کے درمیان غیر ضروری فرق پیدا ہوسکتا ہے۔

کچھ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس فیصلے سے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے اور مذہبی عدم رواداری کو مزید ہوا مل سکتی ہے۔

یہ معاملہ جھارکھنڈ کے چاس میں شروع ہوا، جہاں ایک اردو مترجم اور سرکاری ملازم نے ہری نندن سنگھ کے خلاف زبانی بدسلوکی اور مذہبی امتیاز ی سلوک کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرائی۔

ایک نچلی عدالت نے ابتدائی طور پر سنگھ کے خلاف معاملہ درج کیا جسے بعد میں راجستھان ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ نے بالآخر تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے الفاظ کا استعمال قابل سزا جرم نہیں ہے۔

اس فیصلے سے بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کے بارے میں تشویش پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ یہ امتیازی تبصروں کے لئے قانونی ڈھال فراہم کرسکتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خاص طور پر بھارتی مسلم اقلیت کے خلاف فرقہ وارانہ ہدف بندی کے بڑے مسئلے کو تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔