آبنائے ہرمز پر قبضے کی نئی حکمت عملی، ایران کا عالمی تجارتی گزرگاہ کو معاشی طاقت میں بدلنے کا منصوبہ

ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرنے کے لیے جامع معاشی منصوبہ تیار کرلیا، جس کا مقصد اس عالمی گزرگاہ کو اپنی شرائط پر چلاتے ہوئے قومی معیشت کو سہارا دینا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی قانون سازوں نے ایک ایسی نئی حکمت عملی وضع کی ہے، جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں ایک اہم ریگولیٹر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد عالمی تجارتی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے اراکین کا کہنا ہے کہ اس نئے قانون کے ذریعے ایرانی کرنسی، ریال، کی قدر میں اضافہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں کو غرق کر دیں گے، مشیرِ مجتبیٰ خامنہ ای
نئے ضوابط کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے غیر ملکی بحری جہازوں کو اپنی ٹرانزٹ فیس اور دیگر ادائیگیاں ایرانی بینکنگ چینلز یا تہران میں قائم مقامی دفاتر کے ذریعے کرنی ہوں گی۔
یہ اقدام ایران کی مالیاتی خودمختاری کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایران بحری ٹریفک کے انتظام اور دیگر خدمات کے ذریعے سالانہ دس سے پندرہ ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کر رہا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ وہ تجارت کو روکنا نہیں چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس گزرگاہ کا انتظام اس کی اپنی شرائط پر چلایا جائے تاکہ عالمی پابندیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت ایران اپنی جغرافیائی اہمیت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈالر پر انحصار ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












