افغان طالبان کا القاعدہ سے تعلق برقرار، حکومت کے پچپن ارکان براہ راست ملوث نکلے

امریکی تحقیقاتی ادارے اور افغان میڈیا نے طالبان حکومت کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط اور ان کی کابینہ میں شامل ارکان پر عالمی پابندیوں کے حوالے سے انکشافات کیے ہیں۔
افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان حکومت اس وقت عالمی سطح پر شدید سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی، منشیات کی اسمگلنگ اور مجرمانہ نیٹ ورکس کی موجودگی بتائی جاتی ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں افغان طالبان کے حکومتی ڈھانچے کے حوالے سے سنگین حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے تقریباً پچپن ارکان اور اعلیٰ عہدیداروں کے عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ تعلقات اب بھی برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بھارتی سرپرستی میں افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ پر گرفتار دہشت گرد کے انکشافات
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ طالبان قیادت کا بیس فیصد سے زائد حصہ بم دھماکوں اور خودکش حملوں جیسی کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ رہا ہے۔
دوسری جانب افغان میڈیا ادارے ‘افغانستان انٹرنیشنل’ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کی تینتیس رکنی کابینہ میں سے چودہ ارکان ایسے ہیں، جن کے نام اقوام متحدہ کی عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
ان میں افغان عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند، نائب وزیراعظم، عبوری وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی سمیت کئی اہم وزراء شامل ہیں۔
ان رہنماؤں پر نہ صرف سفری پابندیاں عائد ہیں بلکہ ان کے اثاثے منجمد کرنے اور اسلحہ کی خریداری پر بھی پابندی ہے۔ مجموعی طور پر طالبان سے وابستہ ایک سو پینتیس افراد اور پانچ ادارے پابندیوں کی زد میں ہیں۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان روابط کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان طالبان اب بھی عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہیں اور ان کی حکومت دہشت گردانہ کارروائیوں سے مکمل طور پر لاتعلق نہیں ہو سکی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









