ہم پر حملہ ہوا تو ایک کے بدلے چار تیل کے کنوؤں کو تباہ کریں گے، ایرانی عہدیدار

ایک طرف ٹرمپ نے ایرانی تیل کی تنصیبات کے تباہ ہونے کا بیان دیا ہے، تو دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر چار گنا زیادہ نقصان پہنچانے کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان کے نائب اسماعیل ثقفی اصفہانی نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ اگر جاری ناکہ بندی کے دوران ایران کے بنیادی ڈھانچے یا تیل کے کنوؤں کو نشانہ بنایا گیا تو تہران اس کا بھرپور جواب دے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی کسی بھی تنصیب کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ایران ان ممالک کے مشابہہ ڈھانچے پر چار گنا زیادہ حملہ کرے گا، جو اس جارحیت کی حمایت کر رہے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیرِ خارجہ عباس عراقچی عمان کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے، ایرانی میڈیا
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایران کا حساب کتاب اب بالکل مختلف ہے اور اب فارمولا ایک کے بدلے چار تیل کے کنوؤں کی تباہی کا ہوگا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا تیل کا ڈھانچہ اگلے تین دنوں کے اندر اندر خود بخود تباہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس کی وجہ مشینی خرابیاں بتائیں اور کہا کہ امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ایرانی تیل بحری جہازوں تک نہیں پہنچ پا رہا، جس کے باعث پائپ لائنوں میں تیل کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب تیل کے وسیع ذخائر نظام سے نہیں نکل پاتے تو وہ زمین کے اندر اور مشینی طور پر پھٹ جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایک بار یہ دھماکہ ہو گیا تو ایران کبھی بھی اس ڈھانچے کو دوبارہ اس حالت میں بحال نہیں کر سکے گا جیسا کہ وہ پہلے تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











