جمعرات، 30-اپریل،2026
جمعرات 1447/11/13هـ (30-04-2026م)

سانحہ مچھیل، وہ سیاہ دن جب بھارتی فوج نے جھانسہ دے کر تین بے گناہ کشمیری نوجوانوں کا قتل کیا

30 اپریل, 2026 10:39

30 اپریل 2010 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے مچھیل میں پیش آنے والا المناک واقعہ آج بھی بھارتی ریاستی دہشت گردی کی زندہ مثال کے طور پر موجود ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی اور ریاستی دہشت گردی کی داستانیں انتہائی طویل ہیں، جن میں سانحہ مچھیل ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتا ہے۔

آج سے سولہ سال قبل 30 اپریل 2010 کو بھارتی فوج نے تین کشمیری نوجوانوں شہزاد خان، محمد شفیع اور ریاض لون کو روزگار کا جھانسہ دے کر مچھیل کے علاقے میں بلایا اور پھر انہیں ایک جعلی مقابلے میں ماورائے عدالت قتل کر دیا۔

قابض افواج نے ان معصوم شہریوں کو شہید کرنے کے بعد دنیا کے سامنے اسے ایک ’’کامیاب انکاؤنٹر‘‘ کے طور پر پیش کیا، جس کا مقصد تمغے اور انعامات حاصل کرنا تھا، تاہم کشمیریوں کے شدید احتجاج اور عالمی برادری کی توجہ نے بھارتی حکام کو اس واقعے کی تحقیقات پر مجبور کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت کی پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں کشمیری مسلمانوں کیخلاف کارروائیاں

یہ واقعہ محض ایک ماضی کا قصہ نہیں بلکہ آج کے مقبوضہ کشمیر کی تلخ حقیقت کی عکاسی بھی کرتا ہے، جہاں فیک انکاؤنٹرز اور جبری گمشدگیاں اب بھی روز کا معمول ہیں۔

سانحہ مچھیل نے کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی میں ایک نئی روح پھونکی اور ان کے سیاسی شعور کو بیدار کیا، جس سے ثابت ہوا کہ طاقت کے زور پر عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

آج بھی مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، لیکن ان مظالم نے کشمیریوں کی اپنی منزل یعنی پاکستان سے وابستگی اور آزادی کے عزم کو مزید پختہ کر دیا ہے۔

مچھیل کے شہدا کی قربانی کشمیریوں کے اس لازوال جذبے کی علامت ہے جو حقِ خودارادیت کے حصول تک کبھی سرد نہیں ہو گا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔