بھارت کی پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں کشمیری مسلمانوں کیخلاف کارروائیاں

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے پہلگام میں کیا جانے والا فالس فلیگ آپریشن اور جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کی شہادت نے مودی سرکار کے اسکرپٹ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
بھارت میں بڑھتے ہوئے داخلی خلفشار، اقلیتوں پر مظالم اور انتہا پسندی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے مودی سرکار ایک بار پھر اپنے پرانے اور گھسے پٹے فالس فلیگ آپریشنز کے اسکرپٹ پر عمل پیرا ہے۔
23 اپریل 2025 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے جعلی مقابلے میں دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔
اس واقعے کے فوری بعد بھارتی گودی میڈیا کے ذریعے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانیے کو فروغ دینے کی مذموم کوشش کی گئی، جو کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی پرانی ‘پلے بک’ کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مودی کی پہلگام واقعے کے ذمہ داروں کی پشت پناہی پر بھارتی جریدے کی شدید تنقید
مقبوضہ کشمیر کے شہریوں نے بھارتی فوج کے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فورسز ظلم و جبر کی انتہا کر رہی ہیں اور عام شہریوں کو زبردستی اٹھا کر انہیں دہشت گرد بنا کر شہید کر دیا جاتا ہے۔
شہریوں کے مطابق وادی میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے جابر بھارتی فوج اب بزرگ شہریوں کو بھی بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر رہی ہے۔
اسی حوالے سے کشمیری حریت رہنما ضیاء مصطفیٰ شہید کی بہن نے بھی ہوشربا انکشاف کیا کہ قابض بھارتی فوج نے ان کے بھائی کو عدالت میں فیصلہ ہونے سے قبل ہی جیل سے نکال کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کر دیا۔ یہ ماورائے عدالت قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت قانون اور انصاف کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔
عالمی ماہرین اور مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں بھی بھارت کی جانب سے جیلوں میں قید کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کر کے انہیں دہشت گرد ظاہر کرنے کا شدید خطرہ موجود ہے۔
گودی میڈیا داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے مسلسل معصوم مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ پہلگام کا واقعہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ مودی کے سیاسی عزائم کے حصول کے لیے کیے جانے والے فالس فلیگ آپریشنز کا تسلسل ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی سرکار اپنی سیاسی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کے لیے کشمیریوں کے خون کا سودا کر رہی ہے، لیکن اب یہ حقیقت دنیا بھر کے سامنے آشکار ہو چکی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












