60 روزہ ڈیڈ لائن کا تنازع، ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو چکی ہے، ٹرمپ انتظامیہ

ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ایران کے ساتھ جاری جنگ قانونی طور پر ختم ہو چکی ہے، تاہم اپوزیشن اراکین نے اسے قانونی تقاضوں سے بچنے کا ایک بہانہ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نیا قانونی مؤقف اپناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ فروری میں شروع ہونے والی جنگ اب ختم ہو چکی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سات اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے دونوں افواج کے درمیان فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا، اس لیے اب یہ ایک فعال جنگ نہیں رہی۔
اس قانونی تشریح کا بنیادی مقصد صدر ٹرمپ کو 1973 کے وار پاورز ریزولوشن کی پابندی سے بچانا ہے، جس کے تحت کسی بھی فوجی کارروائی کو 60 دن سے زیادہ جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ میں اس مؤقف کی حمایت کی ہے کہ جنگ بندی نے مؤثر طریقے سے جنگ کو روک دیا ہے، لہٰذا اب کانگریس سے کسی قسم کی منظوری لینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی بحریہ کا بحران، 13 ارب ڈالر کا طیارہ بردار جہاز سفید ہاتھی بن گیا
تاہم ڈیموکریٹس اور ریپبلکن پارٹی کے بعض اراکین نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔ سینیٹر سوزن کولنز کا کہنا ہے کہ یہ 60 روزہ ڈیڈ لائن کوئی مشورہ نہیں بلکہ ایک قانونی ضرورت ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
قانونی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کی بنیاد پر 60 دن کی مدت کو روکنا قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے۔
انتظامیہ کے بعض سابق مشیروں نے مشورہ دیا ہے کہ اس فوجی مشن کا نام تبدیل کر کے اسے دفاعی کارروائی قرار دے دیا جائے تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے نکلا جا سکے۔
دوسری جانب زمینی صورتحال یہ ہے کہ ایران نے اب بھی آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے اور امریکی بحریہ ایرانی تیل کے ٹینکرز کو روکنے کے لیے ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا امریکی کانگریس انتظامیہ کے اس مؤقف کو قبول کرتی ہے یا صدر ٹرمپ کو اپنی جنگی پالیسی پر سخت قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











