اسرائیل کو یورپی حدود میں کارروائی کی اجازت کس نے دی؟ اقوام متحدہ کی مبصر

اقوام متحدہ نے یورپی سمندری حدود میں اسرائیلی مداخلت اور غزہ جانے والے امدادی جہاز کے کارکنوں کے اغوا کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے گھناؤنا فعل قرار دیا ہے۔
فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے خلاف اسرائیلی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی سمندر، خاص طور پر یورپی سمندری حدود میں اسرائیلی مداخلت کو ایک گھناؤنا فعل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان سمیت 11 ممالک کی صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت
فرانسسکا البانیز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی پوسٹ میں مطالبہ کیا کہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں اغوا کئے گئے دو سرگرم کارکنوں، سیف ابو کشیک اور تھیاگو اویلا کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق یکم مئی کو اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی سمندر میں امدادی قافلے کو روک کر اس پر قبضہ کر لیا تھا۔
اگرچہ زیادہ تر شرکا کو کریٹ کے مقام پر رہا کر دیا گیا تھا، تاہم سیف اور تھیاگو کو زبردستی ایک اسرائیلی فوجی جہاز پر منتقل کر کے اسرائیل لے جایا گیا، جہاں ان کی عدالت میں پیشی اتوار کو متوقع ہے۔
اقوام متحدہ کی ماہر کا کہنا ہے کہ ایک طرف اسرائیل غزہ میں اپنی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف اسے یورپی پانیوں میں گشت کرنے اور لوگوں کو اغوا کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یرغمال بنانا ایک جرم ہے اور ان کارکنوں کو بلا تاخیر رہا کیا جانا چاہیے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









