جمعہ، 15-مئی،2026
جمعہ 1447/11/28هـ (15-05-2026م)

نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم کرنے پر مجبور کیا، امریکی پروفیسر

15 مئی, 2026 08:17

امریکی پروفیسر نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے شدید دباؤ پر ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے کو ختم کیا۔

معروف امریکی ماہر تعلیم اور بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر جیفری سیکس نے مشرق وسطیٰ کی سیاست اور امریکی مداخلت کے حوالے سے انتہائی سنگین انکشافات کیے ہیں۔

پروفیسر جیفری سیکس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو گزشتہ چالیس برسوں سے عالمی برادری سے مسلسل یہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے نیتن یاہو کو نفسیاتی مریض قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اصل مقصد ایران کی حکومت کا خاتمہ ہے، جس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

پروفیسر سیکس کے مطابق ایران نے ہمیشہ مذاکرات کی میز پر آنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور مسلسل یہ مؤقف اپنایا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات، امریکی صدر نے چین کو سپر پاور قرار دے دیا

اس کے باوجود جنگ کے حامی نیتن یاہو نے 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور انہیں اس بات پر مجبور کیا کہ وہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے مشترکہ جامع ایکشن پلان یعنی جوہری معاہدے کو ختم کر دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے اس عالمی معاہدے کو پس پشت ڈالا، جس پر امریکہ سمیت دنیا کی پانچ بڑی طاقتیں دستخط کر چکی تھیں۔

جیفری سیکس کا ماننا ہے کہ اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا تاکہ ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جا سکیں اور خطے کو عدم استحکام کا شکار کر کے تہران میں حکومت کی تبدیلی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔