روس کا انتہائی طاقتور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سرمت کا کامیاب تجربہ

روس نے اپنے جدید ترین اور انتہائی طاقتور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سرمت کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جسے مغربی حلقوں میں ‘شیطان دوئم’ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
روس نے اپنی فوجی طاقت کا لوہا منواتے ہوئے پلیسٹسک خلائی اڈے سے اپنے نئے بھاری بین البراعظمی بیلسٹک میزائل آر ایس اٹھائیس سرمت کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
اس لانچنگ کے فوراً بعد اسٹریٹجک میزائل فورسز کے کمانڈر نے براہ راست صدر ولادیمیر پیوٹن کو رپورٹ پیش کی، جس پر صدر پیوٹن نے اس سسٹم کی بے مثال صلاحیتوں کو سراہا۔
یہ میزائل اس وقت دنیا کا سب سے طاقتور ہتھیار تسلیم کیا جا رہا ہے، جس کے وار ہیڈ کی طاقت کسی بھی مغربی میزائل کے مقابلے میں چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔
سرمت میزائل کی رینج پینتیس ہزار کلومیٹر سے زائد ہے اور یہ ذیلی مدار میں پرواز کرتے ہوئے دنیا کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی تیل منڈی میں ڈالر کے بجائے چینی یوآن کا استعمال بڑھنے لگا ہے، روسی وزیر
اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ قطب شمالی یا جنوبی دونوں راستوں سے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کے تمام موجودہ اور مستقبل کے میزائل ڈیفنس سسٹم اس کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق اس میزائل کا پہلا دستہ 2026 کے آخر تک ازور ڈویژن میں جنگی الرٹ پر تعینات کر دیا جائے گا۔
اس میزائل کی تیاری سے روس نے اپنے جوہری اثاثوں کو جدید بنانے کی مہم میں بڑی پیش رفت کی ہے۔ روسی عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمت میزائل کی تعیناتی سے عالمی توازنِ قوت مکمل طور پر روس کے حق میں جھک جائے گا، کیونکہ یہ میزائل اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ روس کو شکست دینے کی کوئی بھی کوشش حملہ آور کو تابکار راکھ میں تبدیل کر کے ختم کر دے گی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












