امریکی اسلحے کی مشرق وسطیٰ میں کھپت، چین نے میزائل سازی کی صلاحیت کو دوگنا کر دیا

رپورٹ کے مطابق چین نے میزائل سازی سے وابستہ کمپنیوں کی تعداد دوگنا کر لی ہے، بیجنگ کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
چین نے اپنی میزائل سازی کی صنعت کو غیر معمولی رفتار سے وسعت دی ہے۔ 2013 میں میزائل سازی سے وابستہ چینی کمپنیوں کی تعداد محض 32 تھی، جو 2025 تک بڑھ کر 81 ہو چکی ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چین نے اپنے صنعتی ڈھانچے کو مکمل طور پر جنگی بنیادوں پر استوار کر لیا ہے، جس کا مقصد طویل مدتی اور شدید جنگ کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا مجوزہ میزائل دفاعی نظام گولڈن ڈوم، روسی اور چینی میزائلوں کے سامنے ناکام قرار
اعداد و شمار کے مطابق چین کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے میں 2015 کے بعد سے 137 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی مجموعی تعداد اب 3 ہزار 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ بیجنگ کے پاس 300 سے زائد زمین سے لانچ کیے جانے والے کروز میزائل بھی موجود ہیں۔
چینی حکومت نے مصنوعی ذہانت، مائیکرو الیکٹرانکس اور اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے وابستہ سویلین کمپنیوں کو بھی دفاعی صنعت کا حصہ بنا دیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی عالمی پابندیوں کے باوجود اسلحے کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
اس وقت چین وائی جے اکیس ہائپر سونک میزائل اور ڈی ایف 26 جیسے ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر پیداوار کر رہا ہے، جنہیں گوآم کلر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے تہران کے تجربے سے یہ سبق سیکھا ہے کہ جدید جنگ میں مسلسل اور بڑے پیمانے پر میزائل داغنے کی صلاحیت ہی سب سے اہم ہے۔
جب امریکہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں اپنا قیمتی اسلحہ ضائع کر رہا ہے، چین مستقبل کی کسی بڑی جنگ کے لیے اپنے گودام بھرنے میں مصروف ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










