جمعہ، 15-مئی،2026
جمعہ 1447/11/28هـ (15-05-2026م)

ٹرمپ کا مجوزہ میزائل دفاعی نظام گولڈن ڈوم، روسی اور چینی میزائلوں کے سامنے ناکام قرار

15 مئی, 2026 09:45

امریکی صدر کی جانب سے چین اور روس کا مقابلہ کرنے کے لیے تجویز کردہ میزائل دفاعی نظام گولڈن ڈوم پر کانگریس کے بجٹ آفس نے تشویشناک رپورٹ جاری کردی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مجوزہ میزائل ڈیفنس سسٹم گولڈن ڈوم، جسے روس اور چین کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، امریکی معیشت پر بارہ سو ارب ڈالر کا بھاری بوجھ ڈال سکتا ہے۔

غیر جانبدار کانگریس بجٹ آفس کی نئی رپورٹ کے مطابق یہ نظام نہ صرف انتہائی مہنگا ہے بلکہ تزویراتی طور پر بھی ناقص ہے۔ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر اس کی لاگت کا تخمینہ ایک سو پچھتر ارب ڈالر لگایا تھا، لیکن اب یہ تخمینہ کئی گنا بڑھ کر بارہ سو ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

اس دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے زمین کے نچلے مدار میں سات ہزار آٹھ سو مسلح سیٹلائٹس، بین البراعظمی میزائلوں کو روکنے کے لیے چھ بڑے ریڈار اور میزائل اڈے، اور ہائپر سونک میزائلوں کے خلاف پینتیس علاقائی اڈوں کی ضرورت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ ٹرمپ کے 500 ارب ڈالر کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس منصوبے کے لیے خطرہ بن گئی

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خلا میں موجود سیٹلائٹس کو کرہ ہوائی کی رگڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ پانچ سال کے اندر جل کر ختم ہو جائیں گے اور ان کی مسلسل تبدیلی پر بے پناہ اخراجات آئیں گے۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ روس اور چین جیسے ممالک اپنے وسیع ایٹمی ذخائر کے ذریعے اس نظام کو باآسانی ناکام بنا سکتے ہیں۔

روس کا سرمت میزائل ایک وقت میں پندرہ ایٹمی وار ہیڈز لے جا سکتا ہے، جبکہ چین کا ڈی ایف اکیاون کسی بھی سمت سے حملہ کر کے امریکی ریڈاروں کو چکما دے سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی فضائی دفاعی نظام پورے ملک کو بیک وقت سو فیصد تحفظ نہیں دے سکتا، اور روس و چین کے ہائپر سونک میزائل اپنی تیز رفتاری اور راستہ بدلنے کی صلاحیت کی وجہ سے اس مہنگے ترین نظام کو محض ایک ناکام کوشش ثابت کر دیں گے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔