چین ایران پر دباؤ کیلئے امریکہ کا کبھی ساتھ نہیں دے گا، اوبامہ کے سابق مشیر

اوباما انتظامیہ کے مشیر نے کہا ہے کہ چین خود کو ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کا آلہ کار نہیں بننے دے گا، بیجنگ تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے واشنگٹن کا ساتھ نہیں دے گا۔
سابق امریکی صدر اوباما کے مشیر اور خارجہ امور کے ماہر تریتا پارسی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے حکمت عملی پر کڑی تنقید کی ہے۔
تریتا پارسی کا کہنا ہے کہ بیجنگ واشنگٹن کے مطالبات کو غیر معقول اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کا حصہ سمجھتا ہے، اسی لیے وہ خود کو ٹرمپ کی مشکوک حکمت عملی کا ہتھیار بننے کی اجازت نہیں دے گا۔ چین کا مؤقف واضح ہے کہ وہ کسی بھی ایسی مہم کا حصہ نہیں بنے گا، جو خطے میں عدم استحکام کا باعث بنے۔
رپورٹ کے مطابق تریتا پارسی کا ماننا ہے کہ چین صرف اسی صورت میں تعاون کر سکتا ہے، جب امریکہ اپنے رویے میں لچک پیدا کرے اور منطقی پوزیشن اختیار کرے۔
یہ بھی پڑھیں : نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم کرنے پر مجبور کیا، امریکی پروفیسر
اگر امریکہ حقیقت پسندانہ مؤقف اپنائے تو چین ایران کو مذاکرات کی طرف راغب کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جیسا کہ اس نے ماضی میں جنگ بندی اور دیگر سفارتی معاملات میں کیا ہے۔
چین اس وقت ایران کا بڑا معاشی شراکت دار ہے اور وہ امریکی پابندیوں کے باوجود تہران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ چین کے ذریعے ایران پر معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھایا جائے، لیکن بیجنگ اپنی آزادانہ خارجہ پالیسی پر کاربند ہے اور وہ امریکہ کے کہنے پر ایران کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











