آبنائے ہرمز بند ہونے سے عالمی معیشت کو سنگین بحران کا خدشہ

جاپان کے ایک معاشی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز مسلسل بند رہی تو صنعتی ممالک کو شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ایران کی عالمی سطح پر اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔
جاپانی انسٹی ٹیوٹ آف مڈل ایسٹرن اکنامکس کی ڈائریکٹر سچی ساکاناشی کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش عالمی توانائی کی سپلائی کو براہ راست متاثر کرتی ہے، جس کے اثرات سب سے زیادہ بڑے صنعتی ممالک پر پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جی سیون ممالک خصوصاً جاپان اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ جاپان کے پاس خام تیل کے ذخائر تو موجود ہیں، لیکن صنعتی کیمیکلز اور ریفائنڈ مصنوعات کے متبادل ذرائع محدود ہیں۔
ان کے مطابق ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے آنے والے خام مال پر انحصار بڑھنے سے عالمی سپلائی چین پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہر کے مطابق ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث اہم کنٹرول رکھتا ہے اور اسے ایک اہم سفارتی اور معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر عائد پابندیاں ختم ہو جائیں تو وہ اس اسٹریٹجک فائدے کو اپنی معیشت مضبوط بنانے کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کئی ممالک اب امریکا کی پالیسیوں اور مشرق وسطیٰ میں اس کے کردار پر دوبارہ غور کر رہے ہیں، کیونکہ توانائی بحران کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
ماہر نے کہا کہ توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک، خصوصاً جاپان، کو اپنی سپلائی لائنز کو متنوع بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی بحران سے بچا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










