امریکی سیاسی نظام میں صہیونی لابی کے اثر و رسوخ کی نئی تفصیلات سامنے آگئیں

انسانی حقوق کی تنظیم ڈان اور ایگل مشن کی رپورٹس کے مطابق امریکی اسرائیلی پبلک افیئرز کمیٹی ایپیک کا ایک وسیع خفیہ نیٹ ورک امریکی اور اسرائیلی سیاسی اداروں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (ایپیک) ایک بار پھر سرخیوں میں ہے کیونکہ اس نے کینٹکی سے ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی کو انتخابی عمل سے باہر کرنے میں کردار ادا کیا ہے، جس سے امریکی سیاسی نظام میں اس صہیونی لابی کے اثر و رسوخ پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ایپیک خود کو ساڑھے چھیاسٹھ لاکھ امریکی شہریوں کی فنڈنگ سے چلنے والی ایک عوامی تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن انسانی حقوق کی تنظیم ڈان کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ نیٹ ورک ہے، جو امریکی اور اسرائیلی سیاسی اداروں میں گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔
فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق ایپیک کے پچاس رہنماؤں کے براہ راست امریکی حکومت سے تعلقات ہیں، جن میں پالیسی کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ڈیوڈ جلیٹ شامل ہیں، جو ماضی میں امریکی محکمہ خارجہ میں ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری رہ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ نے اسرائیل سے زیادہ میزائل فائر کیے، دونوں ممالک میں تناؤ
ایپیک کے سترہ اسٹاف ممبران پہلے امریکی کانگریس کے منتخب ارکان رہ چکے ہیں، جبکہ ایپیک کے چھیاسٹھ سابق ملازمین اب امریکی حکومت، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون میں کام کر رہے ہیں، جن میں سے چالیس کانگریس میں موجود ہیں۔
اس کے علاوہ ایپیک کے سات سابق ملازمین اب اسرائیلی سرکاری اداروں اور چھ موجودہ ملازمین ماضی میں اسرائیلی حکومت کے لیے کام کر چکے ہیں۔
پیشہ ورانہ رابطوں کی ویب سائٹ کے ڈیٹا کے مطابق ایپیک کے اہلکاروں اور اسرائیلی حکام کے درمیان ایک سو ترپن براہ راست روابط ہیں، جن میں چوالیس روابط اسرائیلی وزارت خارجہ، چار روابط اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور انتیس روابط اسرائیلی دفاعی افواج اور ملٹری انٹیلیجنس کے ساتھ ہیں۔
سماجی کارکنوں نے ایپیک کے ان خفیہ روابط کو ہلیل انٹرنیشنل، اینٹی ڈیفیمیشن لیگ، امریکن جیوش کمیٹی اور امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ جیسے سینکڑوں اداروں کے ساتھ بے نقاب کیا ہے جو رائے عامہ اور پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











