پیر، 25-مئی،2026
پیر 1447/12/08هـ (25-05-2026م)

اسرائیلی کمپنی کا فضا میں ذرات چھوڑ کر عالمی درجہ حرارت کم کرنے کا متنازع منصوبہ

25 مئی, 2026 12:05

اسرائیل کے سابق جوہری پروگرام کے ارکان کی قائم کردہ کمپنی نے درجہ حرارت کم کرنے کے لیے ماحول میں مخصوص ذرات چھڑکنے کا پلان تیار کیا ہے، جس پر سائنسی برادری نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیل کے سابق جوہری توانائی پروگرام کے ارکان کی جانب سے قائم کردہ کمپنی اسٹار ڈسٹ سلوشنز نے کرہ ارض کو ٹھنڈا کرنے کا ایک ماحولیاتی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت سورج کی روشنی کو روکنے اور عالمی درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے فضا کی بالائی سطح پر عکاس ذرات چھوڑے جائیں گے۔

کمپنی نے اس منصوبے کے لیے پچھتر ملین ڈالر جمع کر لیے ہیں اور پیٹنٹ کے لیے درخواست بھی دے دی ہے۔ دوسری جانب چھ سو سے زائد سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم نے اس منصوبے پر عالمی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ کے ڈرونز کا خوف، اسرائیلی فوجیوں نے گاڑیوں پر مچھلی پکڑنے کے جال ڈال دیئے

برینڈیز یونیورسٹی کے پروفیسر پرکاش کاشوان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس اس طرح کے خطرات کا کوئی حل نہیں ہے، اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے مون سون کا نظام درہم برہم ، خوراک کی پیداوار کو نقصان اور دو ارب لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

کمپنی نے اب تک ان ذرات کے اجزا کو خفیہ رکھا ہے اور ڈیٹا تک رسائی کے لیے رازداری کے معاہدوں پر دستخط لازمی قرار دیے ہیں۔

ماضی میں بھی ایران اور دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اسرائیل پر کلاؤڈ سیڈنگ یا مصنوعی بارش کے ذریعے بادل چوری کرنے اور قحط سالی پیدا کرنے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ اب اسرائیل کے سابق جوہری حکام کرہ ارض کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کے منصوبے کے پیچھے سرگرم ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔