ہفتہ، 20-جون،2026
ہفتہ 1448/01/05هـ (20-06-2026م)

قابض طالبان رجیم کے حالیہ آمرانہ اقدامات کو افغانستان کے سرکاری قوانین کا درجہ دینا ناقابل قبول قرار

20 جون, 2026 09:48

اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مندوب نصیر احمد اندیشہ نے طالبان حکومت کے حالیہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان فیصلوں کو افغانستان کے سرکاری قوانین یا عوامی رائے کی نمائندگی کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ طاقت کے زور پر افغانستان پر قابض موجودہ انتظامیہ کے اقدامات نہ تو عالمی برادری کے لیے قابلِ قبول ہیں اور نہ ہی افغان عوام ان کی تائید کرتے ہیں۔

ان کے مطابق طالبان کی جانب سے نافذ کیے جانے والے احکامات کو ریاستی قانون کا درجہ دینا درست نہیں ہوگا۔

نصیر احمد اندیشہ نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان عوام کی بڑی تعداد ان پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتی اور مختلف علاقوں میں ان کے خلاف عدم اطمینان اور احتجاج کے رجحانات بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پالیسیوں میں عوامی خواہشات کی حقیقی عکاسی نظر نہیں آتی۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں افغان مندوب کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان حکومت کی بین الاقوامی سطح پر مکمل قانونی حیثیت تسلیم کرانے کی کوششیں اب بھی چیلنجز کا شکار ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی موجودہ صورتحال میں حکومتی فیصلوں اور عوامی رائے کے درمیان خلیج واضح دکھائی دیتی ہے، جبکہ طالبان انتظامیہ کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر بحث اور اختلافِ رائے جاری ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔