تحریک آزادی سے خوفزدہ مودی سرکار ایک بار پھر معصوم کشمیریوں پر ٹوٹ پڑی

مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے خلاف بھارتی حکومت کی سخت کارروائیاں ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہیں، جہاں پولیس اہلکار کے قتل کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور گھروں کو مسمار کرنے کی کارروائیاں سامنے آئی ہیں۔
بھارتی حکومت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے سیاسی حقوق اور حقِ خودارادیت کی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ متعدد رہائشی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
بھارتی جریدے انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کے مطابق ضلع اننت ناگ میں پولیس اہلکار کے قتل کے بعد جموں و کشمیر میں سیکیورٹی کارروائیوں میں اضافہ ہوا، جس کے باعث سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں کارروائیوں کے دوران دو رہائشی مکانات کو دھماکے سے تباہ کیا، جبکہ بڑے پیمانے پر چھاپوں میں تقریباً 3500 کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا۔
ترک خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی نے بھی مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں اور سیکیورٹی کارروائیوں سے متعلق رپورٹس نشر کی ہیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھی ایسی صورتحال دیکھی گئی تھی، جہاں عام شہریوں کو سخت کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں اور گھروں کی مسماری اجتماعی سزا کے مترادف ہیں، جس کی جمہوری معاشروں میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل اور شہری آزادیوں سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی سخت پالیسیوں سے خطے میں بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل اور حقوق کا معاملہ بدستور ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









