منگل، 23-جون،2026
منگل 1448/01/08هـ (23-06-2026م)

سفارتی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے دہشت گردی کو ہتھیار بناکر استعمال نہیں کرنا چاہیے : بلاول بھٹو زرداری

05 مئی, 2023 15:57

وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے بہت سے ممالک دہشت گردی کی لعنت کا سامنا کر رہے ہیں، سفارتی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے دہشت گردی کو ہتھیار بنا کر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے شہر گووا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ اقتصادی وژن آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی رابطے میں سرمایہ کاری ضروری ہے، سی پیک وسط ایشیائی ریاستوں کو راہداری تجارت کے لیے بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہے، افغانستان کی صورتحال نئے چیلنجز کے ساتھ ساتھ مواقع بھی پیش کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری عبوری افغان حکومت کے ساتھ بامعنی بات چیت کرے تاکہ وہ واقعات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔ افغانستان بڑی طاقتوں کے لیے جنگ کا میدان بنتا رہا ہے، ہمیں افغانستان کے بارے میں ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرانا چاہیئے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو افغان حکام پر سیاسی شمولیت کے عالمی طور پر قبول شدہ اصولوں کو اپنانے اور لڑکیوں کے تعلیم کے حق سمیت تمام افغانوں کے حقوق کا احترام کرنے پر زور دینا جاری رکھنا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی افغانستان، خطے اور پوری دنیا کی سلامتی کے لیے انسداد دہشت گردی کی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد کرنی چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یہ بات تشویشناک ہے کہ بین الاقوامی برادری کے برعکس افغانستان میں دہشت گرد گروپ آپس میں زیادہ تعاون کر رہے ہیں، پاکستان عبوری افغان حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی اجازت نہ دینے کے اپنے وعدوں کو برقرار رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان سیکورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے کام کرے تاکہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی حقیقی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جاسکے۔ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان نہ صرف علاقائی انضمام اور اقتصادی تعاون بلکہ عالمی امن اور استحکام کی کلید ہے، ہمیں یقین ہے کہ ایس سی او افغانستان رابطہ گروپ افغانستان کے ساتھ عملی تعاون کو مربوط کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کثیرالجہتی عمل کے لیے پرعزم ہے اور وہ اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم کرنے اور دیرینہ بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کے لیے اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر قائدانہ کردار ادا کرتا رہتا ہے۔

وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے لئے چین کے حالیہ کردار کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایس سی او سے بھی وابستہ ہیں۔ جب بڑی طاقتیں امن ساز کا کردار ادا کرتی ہیں تو ہم اپنے لوگوں کے لیے وسیع تر تعاون، علاقائی یکجہتی اور اقتصادی مواقع کی راہ ہموار کرتے ہوئے امن کی صلاحیت کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔ ہمیں شنگھائی تعاون تنظیم میں ان عالمی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کے احترام کو یقینی بنانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : بلاول بھٹو زرداری کا دورہ بھارت مودی سے محبت بڑھانے کیلئے ہے : اعجاز چوہدری

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاستوں کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد کے خلاف ہیں، ہمیں اپنے وعدوں کو نبھانے اور اپنے لوگوں کے لیے ایک نئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے میں غیر مبہم رہنے کی ضرورت ہے، جو تنازعات کے تحفظ پر نہیں بلکہ تنازعات کے حل پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تحت علاقائی ممالک کی طرف سے مشترکہ طور پر مشترکہ مسائل بالخصوص ماحولیاتی تبدیلیوں، غربت اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ منقسم ردعمل کی بجائے ہمارے اجتماعی چیلنجوں کا حل اجتماعی کارروائی ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی بحران انسانیت کے لیے ایک خطرہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پر شنگھائی تعاون تنظیم میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کیا جائے۔ پاکستان کو حال ہی میں بڑی موسمیاتی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ کرہ ارض کو صرف اس صورت میں موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے بچایا جاسکتا ہے جب عالمی برادری متحد ہو کر کام کرے گی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس سال ستمبر میں ٹرانسپورٹ پر کانفرنس کی میزبانی کا منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری علاقائی رابطوں کے لیے ایک طاقت کا اضافہ ہو سکتا ہے، روٹ سی پیک نے تمام ممالک کو سفر کو مزید آگے لے جانے اور مکمل علاقائی اقتصادی انضمام کی طرف جوڑنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے ایران کو مبارکباد دی جو جلد ہی ایس سی او کا رکن بن جائے گا۔ انہوں نے بحرین، کویت، مالدیپ، میانمار اور متحدہ عرب امارات کے ایس سی او کے نئے ڈائیلاگ پارٹنرز کے طور پر خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ خطہ اب بھی غربت سے دوچار ہے، پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر معروف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر فخر ہے، جس نے خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ غربت کے خاتمے کے خاموش انقلاب کا آغاز کیا۔ پاکستان کی طرف سے تجویز کردہ غربت کے خاتمے پر خصوصی ورکنگ گروپ کا قیام اس سمت میں ایک قدم ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے عالمی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ آئیے سفارتی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے دہشت گردی کو ہتھیار بنانے میں نہ پھنسیں۔ انہوں نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے یہ یاد دہانی کرائی کہ وہ اس بیٹے کے طور پر بات کررہے ہیں، جس کی ماں دہشت گردوں کے ہاتھوں ماری گئی۔ میں اس نقصان کا درد محسوس کرتا ہوں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس لعنت کے خاتمے کے لیے علاقائی اور عالمی کوششوں کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہے، جس کی بنیادی وجہ اور مخصوص گروہوں کی طرف سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور اجتماعی نقطہ نظر کی ضرورت ہے، ہمیں اس چیلنج کو تقسیم کی بجائے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیئے، ہماری کامیابی کا تقاضا ہے کہ ہم اس مسئلہ کو جیو پولیٹیکل پارٹیشن شپ سے الگ کردیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے بہت سے ممالک دہشت گردی کی لعنت کا سامنا کر رہے ہیں، اکثر کو یکساں دہشت گرد گروہوں کی طرف سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔ ایس سی او کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امن اور سلامتی کو بڑھتے ہوئے خطرات سے موثر طریقے سے نمٹا جاسکے۔

Catch all the بریکنگ نیوز News, پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔