لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکہ ایران مذاکرات کو تقریباً روک دیا تھا، اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی سفارتی کوششوں کو تقریباً روک دیا تھا۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عرب نیوز چینل العربیہ کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کو شدید متاثر کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تاہم اب دونوں فریقین کے درمیان حالیہ مفاہمت کی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے سوئزرلینڈ کے تفریحی مقام برگنسٹاک میں تکنیکی مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوسرے مرحلے کے لیے 3 تکنیکی ورکنگ گروپس بنائے گئے ہیں، جو جوہری مسائل، منجمد اثاثوں اور لبنان سے متعلق معاملات پر کام کر رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے اور مسلسل کوششوں سے فریقین کے درمیان سیز فائر کروایا گیا۔ اس سے قبل اسلام آباد میں 47 سال بعد امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : کابل کے فائیو اسٹار ہوٹل میں دہشت گردوں کی تصاویر وائرل، پاکستان کا مؤقف سچ ثابت
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مذاکراتی عمل کی ذاتی طور پر رہنمائی کی ہے، جبکہ سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات بھی اس ثالثی کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے ایک اور بڑے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے بحری نقل و حرکت کے لیے 60 دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے اور اس دوران وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹرانزٹ یا سروس فیس بلکل نہیں ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کچھ مخصوص معاملات طے کرنے کے لیے 30 دن جبکہ مجموعی اور حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کا ٹائم فریم رکھا گیا ہے، جس میں باہمی رضا مندی سے اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس امن کوشش کے اچھے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اور بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال ہو رہی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










