ہفتہ، 13-جون،2026
ہفتہ 1447/12/27هـ (13-06-2026م)

الیکشن میں تاخیر کی مشکوک مہم کے پیچھے کون؟

21 جنوری, 2024 15:32

گزشتہ دنوں ملک میں الیکشن ملتوی کروانے کیلئے ایک منظم مگر پوشیدہ مہم سامنے آئی ہے، بزنس ریکارڈر ’جمہوریت کے خلاف ایک اور سازش‘ کے عنوان سے اداریئے میں پوشیدہ مہم کے پیچھے چھپی خواہشات اور جہتوں کو بے نقاب کرتا ہے۔

آزاد سینٹرز کی جانب سے سینیٹ میں قرارداد کے بعد قرار داد جمع کی جا رہی ہے، کبھی سیکورٹی تو کبھی موسم کی خرابی، 8 فروری کو ہونیوالے انتخابات میں تاخیر کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سب جانتے ہیں سپریم کورٹ اس بارے میں واضح احکامات جاری کر چکی ہے، سب جانتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ملک کی تمام سرکردہ سیاسی جماعتیں تمام خدشات کو سمجھ بوجھ کر عام انتخابات مقررہ وقت پر کروانے کا فیصلہ رکھتے ہیں، پھر سینیٹ میں اس طرح کے مشکوک تنازعات کا مرکز کیوں بن رہی ہے؟

جمہوری عمل کی حمایت کرنے والے سیاستدان اور وکلاء پٹری سے اترنے کی ان کوششوں کو ’’جمہوریت کے خلاف سازش‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود کہ پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف)، جو ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت ہے، طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا کیس بنا رہی ہے اور اسے "لیول پلیئنگ فیلڈ” سے انکار کیا گیا ہے، وقت پر عام انتخابات کیساتھ کھڑی ہے۔

مسلم لیگ ن، جس کے بارے میں دوسری جماعتیں کہتی ہیں کہ "سہولت” دی جا رہی ہے اور زیادہ تر سیاسی پنڈت پہلے ہی فاتح قرار دے چکے ہیں، گزشتہ دنوں بمشکل تمام مہم شروع کی ہے۔ اس سے پہلے صرف پی پی پی (پاکستان پیپلز پارٹی) انتخابی مہم میں نظر آتی ہے، دونوں جماعتیں انتخابات کی تیاری میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن 2024 : نئی حکومت کے لیےدس بڑے چیلنجز کیا ہونگے ؟

ایسے نازک وقت میں سینیٹرز کی جانب سے مشکوک کارروائی اگرچہ بیکار سہی مگر یہ ضرور ہے کہ ایسے عناصر کے جڑے مسئلے کا حل کرنیکا وقت آ گیا ہے۔ جہاں تک انتخابات ملتوی ہونیکی بات ہے تو یہ اہم نہیں چونکہ اسے پہلے ہی ہر سطح پر مسترد کیا جا چکا ہے، مگر ایوان بالا میں کھیلے جانیوالے پراسرار میدان کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ جب پردے کے پیچھے چھپے کھلاڑی کوئی کٹھ پتلی تماشا کرنا چاہتے ہیں تو یہ معزز ارکان کیوں ہمیشہ قطار میں لگ جاتے ہیں؟

واضح طور پر، نہ تو عدلیہ، نہ ہی سیاسی جماعتیں اور نہ ہی اور نہ ہی ای سی پی انتخابات ک مزید تاخیر میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ صرف اتنا ہی نہیں موسم اور سیکورٹی کے بارے میں دلیل میں کوئی وزن نہیں ہے کیونکہ بدتر موسم اور بہت زیادہ خراب سیکورٹی کے درمیان انتخابات ہوئے رہے ہیں۔

یہ فوری طور پر ممکن نہیں ہوگا کیونکہ نگران حکومت انتخابی شیڈول میں مصروف ہے۔ لیکن جب معاملات سنگین ہو جاتے ہیں اور جمہوریت کے خلاف سازش شروع ہو جاتی ہے، چاہے کوئی بھی اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، مستقبل قریب میں قانون سازی کے عمل میں بیرونی اثر و رسوخ کے بارے میں کھل کر بحث کی ضرورت ہے۔

عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کچھ ایسے افراد جو بالآخر نہ تو انہیں اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کو جواب دیتے ہیں، سینیٹ کی خلاف ورزی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اب جب انتخابات سامنے ہیں، حالانکہ آئینی ڈیڈ لائن کی خلاف ورزی کرنے اور عدالت عظمیٰ سے وارننگ دینے سے پہلے نہیں تھے، چند مٹھی بھر سینیٹرز اس سارے جمہوری عمل کا مذاق اڑا رہے ہیں، یہاں تک کہ بین الاقوامی سطح پر ملک کو برا بھلا کہا جا رہا ہے۔

سب سے پہلے سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنی صفوں میں چھپے زیریلے عناصر کو پہچانیں اور عوام بھی انہیں نظر انداز نہ کریں۔ جماعتیں کیا وعدہ کریں گی اور عوام ان میں سے کس کو منتخب کریں گے۔ موسم کے بارے میں بہت کچھ نہیں کیا جا سکتا، لیکن سیکورٹی کی صورتحال پورے پاکستان کے عوام بھی جانچ رہے ہیں۔

Catch all the پاکستان News, تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔