یحییٰ سنوار شہادت سے قبل کتنے روز تک بھوکے رہے؟ انکشاف ہوگیا

یحییٰ سنوار 2024 میں عرب دنیا کی معروف ترین شخصیت قرار (فوٹو: فائل)
فلسطینیوں کیلئے مزاحمت کی علامت اور حماس کے شہید سربراہ یحییٰ سنوار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ صہیونیوں کا مقابلہ کرنیوالے عظیم رہنما نے تین روز سے کوئی چیز نہیں کھائی تھی۔
حماس کے سابق سربراہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سوشل میڈیا پلیٹ فام ایکس کی زینت بنی ہوئی ہے جس میں قدس نیوز نیٹ ورک اور اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔
16 اکتوبر کو اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے والے حماس سربراہ یحییٰ سنوار نے آخری 3 روز تک کچھ نہیں کھایا تھا اسکے باوجود دشمن کا جواں مردی سے مقابلہ کیا۔
مزید پڑھیں: یحییٰ سنوار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آگئی
قبل ازیں اسرائیلی فورسز کیخلاف لڑائی میں شہید ہونے والے حماس سربراہ یحییٰ سنوار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آئیں تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ یحییٰ سنوار کی موت سر میں گولی لگنے سے ہوئی، پہلے حماس رہنما کے ہاتھ میں میزائل یا ٹینک کے شیل سے زخم ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: مزاحمت کی علامت شہید یحییٰ سنوار کی آخری وصیت سامنے آگئی
ڈاکٹر چین کوگل نے مزید بتایا کہ یحییٰ سنوار نے اپنے زخمی بازو سے بہتے خون کو روکنے کے لیے تار سے باندھا لیکن ان کا بازو ٹوٹ چکا تھا، حییٰ سنوار کی موت سر میں گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی۔
مزید پڑھیں: "غزہ جنگ بندی؛ یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد مشکل ہے”
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کس نے گولی چلائی، کب گولی چلائی اور کونسا اسلحہ استعمال کیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 7 اکتوبر سے جاری غزہ جنگ میں ابتک 43 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد اپنی سرزمین سے بےدخل ہونے پر مجبور ہیں۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












