ہفتہ، 13-جون،2026
جمعہ 1447/12/26هـ (12-06-2026م)

مصطفیٰ قتل کیس؛ عدالت نے ملزم ارمغان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

18 فروری, 2025 10:45

انسداد دہشتگردی 2 کی عدالت نے مقتول مصطفیٰ عامر کے اغواء اور قتل کیس میں ملزم کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

ابتدا میں آج سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے آغاز کے بعد سرکاری وکیل نے کہا کہ تحقیقات کے دوران مغوی کی والدہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا، مغوی کی والدہ نے بتایا کہ انہیں 2 کروڑ روپے کے تاوان کی کال موصول ہوئی ہے۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ تاوان کی کال کے بعد کیس کی انویسٹی گیشن اے وی سی سی پولیس کو منتقل ہو گئی، 8 فروری کو ڈیفنس کے ایک بنگلے میں ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا۔

مزید پڑھیں:مصطفیٰ اغوا کیس میں اہم پیشرفت

دورانِ سماعت عدالت نے سوال کیا کہ کسٹڈی کہاں ہے؟ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے مصطفیٰ عامر کے اغواء کی ایف آئی آر پڑھ کر سنائی اور کہا کہ 6 جنوری کو مصطفیٰ عامر کو اغواء کیا گیا۔

اس معاملے کا مقدمہ تھانہ درخشاں میں درج کیا گیا تھا، اس کال کے بعد اس کیس کی تفتیش سی آئی اے کو دے دی گئی تھی، امین اشفاق اس کیس کے پہلے تفتیشی افسر تھے۔

سرکاری وکیل کے مطابق ارمغان کے بنگلے کی تلاشی کیلئے سرچ  وارنٹ حاصل کیا گیا تھا، 8 فروری کو ڈی ایس پی کی سربراہی میں بنگلے پر چھاپہ مارا گیا تھا۔

پولیس کی جانب سے ارمغان کا ریمانڈ جوڈیشنل مجسٹریٹ سے اتوار کے روز حاصل کیا گیا تھا، 10 فروری کو ملزم ارمغان کو انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملزم کی فائرنگ کی وجہ سے ڈی ایس پی سمیت پولیس پارٹی زخمی ہوئی تھی، ملزم کے پاس جدید نوعیت کا اسلحہ تھا جسکو استعمال کرتے ہوئے فائرنگ کی گئی، اے ٹی سی میں پولیس کی استدعا تھی کہ ملزم کا ریمانڈ حاصل کرکے تفتیش کو آگے بڑھانا ہے۔

وکیل کے مطابق ملزم پر اس سے قبل پانچ مقدمات مختلف نوعیت کے درج ہیں جبکہ ملزم تھانہ بوٹ بیسن کے ایک مقدمے میں مفرور بھی ہے۔

دوسری جانب ملزم ارمغان نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ مجھ پر بے تحاشہ تشدد کیا گیا ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم کے تشدد کے نشانات بھی عدالت کو دکھائے جائیں، اے ٹی اے کی جانب سے تشدد کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ طلب کی جاسکتی تھی۔

عدالت نے ملزم سے سوال کیا کہ کیا جیل میں میڈیکل ٹریٹمنٹ کیلئے کوئی درخواست دی گئی تھی، جس پر ملزم نے کہا کہ میری جانب سے کوئی درخواست نہیں دی گئی۔

سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ پراسیکیوشن کی انسداد دہشتگردی 2 کی عدالت سے متعلق مختصر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ عدالت نے پراسیکیوشن کی چاروں درخواستیں منظور کر لیں۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ کے 10 اور11 فروری کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ تفتیشی افسر ملزم کو انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 2میں پیش کریں۔

عدالت کے حکم نامے کے بعد ملزم ارمغان کو سندھ ہائی کورٹ کے بعد انسداد دہشت گردی 2 کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اے ٹی سی 2 نے مصطفی عامر اغوا اور قتل کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کہ ملزم ارمغان کی حالت ٹھیک نہیں، میڈیکل کرایا جائے۔

عدالت نے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ میڈیکل تو پہلے دن ہی ہوجانا چاہیے تھا پھر کیوں نہیں کرایا؟ جس پر پولیس نے کہا کہ ہمیں 39 دن کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے، تفتیش مکمل کرنی ہے۔

تاہم اے ٹی سی 2 کی عدالت نے نے ملزم ارمغان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا جس کے بعد ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

دوسری جانب ڈیفنس سے اغوا کے بعد دوست کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی کے لیے 3 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے اور مقتول کی قبر کشائی 21 فروری صبح 9 بجے ہو گی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔