جمعہ، 6-فروری،2026
جمعہ 1447/08/18هـ (06-02-2026م)

اہرامِ مصر کی تعمیر کا صدیوں پرانا راز جدید تحقیق سے بے نقاب ہوگیا

31 جنوری, 2026 17:00

قاہرہ: مصر کے عظیم اہرام صدیوں سے انسانی ذہن کو حیران کرتے آئے ہیں۔ یہ سوال ہمیشہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور سائنسدانوں کے لیے معمہ رہا کہ ہزاروں سال قبل بغیر جدید مشینری کے لاکھوں ٹن وزنی پتھروں کو اتنی بلندی تک کیسے پہنچایا گیا۔ اب ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس دیرینہ راز پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق عظیم ہرم کی تعمیر کے لیے لمبی بیرونی ڈھلوانوں کا استعمال نہیں کیا گیا، جیسا کہ ماضی میں عام طور پر تصور کیا جاتا رہا۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تعمیر کے دوران ہرم کے اندر ایک منظم اور پیچیدہ مکینیکل نظام استعمال کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق اس اندرونی نظام میں مضبوط رسیاں، لکڑی کے شہتیر اور چرخی نما آلات شامل تھے، جن کی مدد سے بھاری پتھروں کو بتدریج اوپر منتقل کیا جاتا تھا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہرم کی اندرونی راہداریوں، عظیم گیلری اور چڑھنے والے راستوں کو دراصل اندرونی ڈھلوانوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق یہ نظام اتنی قوت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا کہ کئی ٹن وزنی پتھر کم سے کم انسانی محنت کے ساتھ اوپر منتقل کیے جا سکتے تھے۔ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 60 ٹن تک وزنی بلاکس بھی اسی طریقۂ کار کے ذریعے نصب کیے گئے، جو قدیم مصری انجینئرنگ کی غیر معمولی مہارت کا ثبوت ہے۔

نیویارک کے وائل کارنیل میڈیکل کالج سے وابستہ ڈاکٹر سائمن آندریاس شورنگ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہرم کے اندر موجود ایک چھوٹا گرینائٹ کمرہ، جسے ماضی میں حفاظتی مقصد کے لیے سمجھا جاتا تھا، دراصل تعمیراتی نظام کا مرکزی حصہ تھا۔

تحقیق کے مطابق اسی مقام پر رسیاں اور لکڑی کے بیم استعمال کرکے پتھروں کو عمودی طور پر اوپر اٹھایا جاتا تھا۔ کمرے کے فرش پر موجود خراشیں اور بے قاعدگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہاں ایک ستون نصب تھا، جسے تعمیر مکمل ہونے کے بعد بند کر دیا گیا۔

تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ عظیم ہرم کے کچھ حصے، جن میں ملکہ کا چیمبر بھی شامل ہے، جان بوجھ کر مرکزی محور سے ہٹ کر تعمیر کیے گئے تاکہ اندرونی مشینری کے لیے مناسب جگہ فراہم کی جا سکے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ عظیم ہرم کی تعمیر تقریباً 20 برس میں مکمل ہوئی، اور اس دوران اوسطاً ہر منٹ میں ایک پتھر نصب کیا جاتا رہا۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ رفتار بیرونی ڈھلوانی طریقۂ تعمیر سے ممکن نہیں تھی۔

اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو قدیم مصر کی انجینئرنگ مہارت کے بارے میں دنیا کو اپنے تصورات پر ازسرِنو غور کرنا پڑے گا۔

Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔