چین، ایران، وینزویلا کے گرد گھومتی حکمت عملی، امریکہ چاہتا کیا ہے؟

امریکی دفاعی تجزیہ کار کے مطابق امریکا کی عالمی حکمتِ عملی چین، ایران، وینزویلا اور دیگر اہم ممالک کا مؤثر مقابلہ کرنے اور خطے میں اپنا اثر برقرار رکھنے کے گرد گھوم رہی ہے۔
امریکی دفاعی تجزیے کے ماہر کریس کیپی کے مطابق امریکا کی موجودہ عالمی پالیسی اور فوجی حکمت عملی ایک بڑے مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور وینزویلا جیسے ممالک کے نظام پر قابو پا لیا جائے تو یہ چین کی توانائی کے اہم ذرائع میں سے بیس فیصد حصہ کھو دینے جیسا ہوگا۔
چین دنیا بھر میں توانائی کے لیے مختلف ممالک سے تیل اور گیس درآمد کرتا ہے اور ایران اور وینزویلا ان میں بڑے سپلائر ہیں۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس سے چین کو کم قیمت تیل کے حصول کے لیے روس کی طرف مزید رجوع کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ چین کے توانائی ذرائع پر دباؤ پلے نہیں گا۔
دوسری جانب وینزویلا کے اندر امریکا کی مداخلت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ امریکا نے بعض کارروائیاں شروع کی ہیں جن میں مقامی منشیات کارٹیلز اور خاص طور پر ایلمینوچو جیسے گروہوں کے خلاف آپریشن شامل ہیں۔
یہ کارٹیلز امریکی و میکسیکو کی تجارت پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور ان کی سرگرمیاں باقاعدہ ٹیکس یا غیر قانونی محصولات کے طور پر امریکی تجارت کو متاثر کر رہی ہیں۔
اس تناظر میں امریکی حکمتِ عملی ان گروہوں کو کمزور کرکے تجارتی دھاروں پر اثرات کو محدود رکھنے کی کوشش بھی ہے، تاکہ وہ چین سے معاشی علیحدگی کے اپنے منصوبے کو آگے بڑھا سکیں۔
تجزیہ کار کا یہ بھی کہنا ہے کہ پچھلے ہفتوں میں جو کارروائیاں سامنے آئی ہیں وہ دراصل ایک مربوط حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکا ایک بڑی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد چین کی خارجہ پالیسی اور عالمی طاقت کے توازن کو کمزور کرنا ہے۔
امریکی حکمت عملی کے تحت اگر چین اگلے دو برس میں کسی بھی قسم کا جارحانہ قدم اٹھاتا ہے، جیسا کہ تائیوان کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں، تو وہ خطے کے عوامی اور عسکری ردعمل سے تنہا ہوگا اور مشرق وسطیٰ یا میکسیکو جیسے علاقوں میں صورتحال اس کے حق میں نہیں ہوگی، کیونکہ وہاں امریکی اثر و رسوخ بڑھایا جا چکا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں، کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے : ایرانی مندوب
کریس کیپی کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ اگلے دو برسوں میں اس کا فوکس مکمل طور پر بحرِ اوقیانوس کے بجائے بحرِاعظم اور بحرِالکاہل کے خطے پر رہے۔
اس حکمتِ عملی میں شامل عناصر یہ ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں چین کی تیل کی رسد کم ہو جائے، مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی مدد یا حمایت کے لیے چین کو محدود رکھا جائے اور وہاں کی فوجی و اقتصادی طاقتیں امریکا کے خلاف کمزور ہوں۔
اسی طرح میکسیکو میں کارٹیلز کے خلاف کارروائیوں کا مقصد بھی صرف مقامی نظم و ضبط قائم کرنا نہیں بلکہ علاقائی طاقتوں کو کمزور کرکے چین کے اثر و رسوخ کو بھی گھٹانا ہے۔
تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی فوجی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے براہِ راست جنگ جیسی کارروائیوں کے بجائے عالمی سیاسی و اقتصادی دباؤ اور علاقائی اتحادوں کو استعمال کر رہا ہے تاکہ چین کو اپنے اثرات کو برقرار رکھنے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ دنیا کے اہم خطوں میں اس کا غلبہ قائم رہے تاکہ مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیاء تک کے علاقے میں اس کی ترجیحات پر اثرانداز نہ ہوا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اس وقت جو لڑائی لڑی جا رہی ہے، وہ صرف فوجی محاذ پر نہیں بلکہ اقتصادی، سیاسی اور علاقائی سطح پر بھی ہے۔
اگرچہ امریکا اور چین دونوں کی عالمی سطح پر طاقت و اثر و رسوخ کے حوالے سے مختلف آراء ہیں، تاہم موجودہ عالمی حالات میں یہ واضح ہے کہ یہ ایک طویل اور پیچیدہ جدوجہد ہے، جس کے نتائج آنے والے برسوں میں سامنے آئیں گے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








