امریکہ نے اسرائیل کے کہنے پر عراق اور شام کو برباد کیا، سابق امریکی اعلیٰ عہدیدار

سابق امریکی اعلیٰ عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کی خوشنودی کے لیے عراق اور شام کی حکومتوں کا تختہ الٹا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں کو مسلح کیا گیا۔
سابق امریکی آرمی رینجر اور انسدادِ دہشت گردی کے قومی مرکز کے سابق سربراہ جو کینٹ نے امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے انتہائی سنگین انکشافات کیے ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ امریکہ نے عراق میں صدام حسین اور شام میں بشار الاسد کی حکومتوں کو صرف اس لیے ختم کیا کیونکہ اسرائیل ایسا چاہتا تھا۔
جو کینٹ کے مطابق اسرائیل ان مضبوط حکومتوں کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا تھا اور امریکہ نے ان مضبوط حکمرانوں کو ہٹانے کے لیے مقامی باغی گروہوں بشمول القاعدہ اور داعش کو ہتھیار اور تربیت فراہم کی۔
یہ بھی پڑھیں : پینٹاگون نے ٹرمپ کو ایران جنگ کے اصل حقائق سے بے خبر رکھا، جے ڈی وینس کا خدشہ
ہیلری کلنٹن کی ای میلز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے براہِ راست ان گروہوں کے ساتھ کام کیا تاکہ شام میں خانہ جنگی کو ہوا دی جا سکے۔
جو کینٹ نے مزید کہا کہ یہ امریکی پالیسی کی بدترین ناکامی تھی کہ جن گروہوں کو انہوں نے خود پالا، وہی بعد میں بے قابو ہو گئے اور یورپ و امریکہ میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ کی غلطیوں کی وجہ سے شام میں ایک ایسا شخص اقتدار کے قریب ہے، جو ماضی میں القاعدہ اور داعش کا حصہ رہا ہے اور جس نے لوگوں کے گلے کاٹے ہیں۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کے گرد موجود مشیروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صدر کو غلط مشورے دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے امریکہ اب ایران کے خلاف اسی تیسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جو اسرائیل کا حتمی ہدف ہے۔
جو کینٹ کے بقول ہم نے پورے مشرقِ وسطیٰ کا نظام درہم برہم کر دیا ہے اور اب خود ہی اس آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہم نے خود لگائی تھی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












