آبنائے ہرمز کے بعد اب ملاکا کا محاذ، چین کے گرد امریکی گھیرا تنگ ہونے لگا

آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے سائے میں جنوب مشرقی ایشیا کی آبنائے ملاکا ایک نئے عالمی تنازع کے مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے۔
فروری 2026 کے اواخر سے آبنائے ہرمز عالمی شہ سرخیوں کا مرکز بنی ہوئی ہے، لیکن اس دوران جنوب مشرقی ایشیا میں ایک زیادہ سنگین اور اسٹریٹجک چال چلی جا رہی ہے، جو چین کے گرد امریکی گھیرا تنگ کرنے کے پیٹرن سے میل کھاتی ہے۔
13 اپریل 2026 کو واشنگٹن نے انڈونیشیا کے ساتھ ایک بڑے دفاعی تعاون کی شراکت داری پر دستخط کئے ہیں، جس میں فوجی جدید کاری، مشترکہ تربیت اور سمندری دفاعی ٹیکنالوجی شامل ہے۔
امریکہ اب انڈونیشیا کی فضائی حدود تک رسائی کا خواہاں ہے، جس پر جکارتہ کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس کا جائزہ لے رہا ہے۔
آبنائے ملاکا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی درآمد شدہ تیل کا 75 سے 80 فیصد حصہ روزانہ اسی راستے سے گزرتا ہے اور عالمی سمندری تجارت کا 24 فیصد حصہ بھی اسی تنگ گزرگاہ پر منحصر ہے۔
آبنائے ملاکا اپنے تنگ ترین مقام فلپس چینل پر محض دو اعشاریہ آٹھ کلومیٹر چوڑی ہے اور اس کا کوئی مناسب متبادل موجود نہیں ہے کیونکہ کسی دوسرے راستے سے سفر کرنے کا مطلب 15 دن کی تاخیر اور 1500 ناٹیکل میل کا اضافی سفر ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہمیں بھی حصہ چاہیے! مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز پر امریکہ کا اصل ارادہ ظاہر کر دیا
چین کے پاس موجود دیگر متبادل جیسے میانمار پائپ لائن یا وسطی ایشیائی پائپ لائنز اس کی کل ضرورت کا بمشکل 10 فیصد ہی پورا کر پاتی ہیں۔
امریکہ کو یہاں ایک گولی چلانے کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ انڈونیشیا میں فوجی رسائی حاصل کر کے وہ چین پر ایسا معاشی دباؤ ڈال سکتا ہے، جیسا ہرمز میں دیکھنے کو ملا۔
اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف چین بلکہ بھارت، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی افریقہ کو بھی مفلوج کر دے گی، کیونکہ یہ تمام خطے خوراک، ایندھن اور صنعتی درآمدات کے لیے ملاکا پر انحصار کرتے ہیں۔
اگرچہ انڈونیشیا نے اب تک غیر جانبداری برقرار رکھی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب امریکی فوجی ڈھانچہ کسی خطے میں جڑیں پکڑ لیتا ہے تو وہاں کی خودمختاری کے معنی تبدیل ہونے لگتے ہیں۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











