علی خامنہ ای کی شہادت پر کراچی میں احتجاج، امریکی قونصل خانے پر حملہ، 8 افراد شہید

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کراچی میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، جو اب ایک پرتشدد صورتحال اختیار کر چکی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف کراچی میں ہونے والا احتجاج اس وقت انتہائی پرتشدد صورتحال اختیار کر گیا جب مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے امریکی قونصل خانے کی جانب رخ کیا۔
مظاہرین نے قونصلیٹ کے باہر جمع ہو کر شدید نعرے بازی کی اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے عمارت کے اندر داخل ہونے کی بھرپور کوشش کی۔ اس دوران صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب مظاہرین کی جانب سے قونصل خانے کی عمارت پر شدید پتھراؤ کیا گیا اور آگ لگا دی گئی، جبکہ فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جس کے نتیجے میں 8 افراد شہید ہوگئی۔
مشتعل مجمع کو منتشر کرنے اور سفارتی مشن کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور رینجرز نے فوری کارروائی کا آغاز کیا، جس کے دوران مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے بڑے پیمانے پر آنسو گیس کے شیل داغے گئے اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا گیا۔
علاقے میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور صورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی آزاد خان بھی خود موقع پر پہنچ گئے تاکہ سیکیورٹی اقدامات کی نگرانی کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر بڑا حملہ، ستائیس امریکی فوجی اڈے اور اہم اسرائیلی تنصیبات نشانہ
مظاہرین نے قونصل خانے کے احاطے میں لگے شیشے اور کھڑکیاں توڑ دیں جس کی وجہ سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے قونصلیٹ کی جانب جانے والے تمام راستوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے مزید نفری طلب کر لی گئی ہے، تاہم ابھی تک سیکیورٹی اداروں اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے۔
اس احتجاج اور پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں کراچی کے اہم ترین تجارتی اور سفارتی زون میں ٹریفک کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق احتجاج کی وجہ سے سلطان آباد سے مائی کولاچی کی طرف جانے والی شاہراہ کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
مسافروں اور شہریوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے جناح برج سے آنے والی ٹریفک کا رخ آئی آئی چندریگر روڈ کی جانب موڑ دیا گیا ہے تاکہ گاڑیوں کے رش کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ بوٹ بیسن سے آنے والی گاڑیوں کو مائی کولاچی پھاٹک سے واپس بھیجا جا رہا ہے جبکہ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن سے آنے والی ٹریفک کو پارک کٹ سے یوٹرن کروایا جا رہا ہے۔
سڑکوں کی اس اچانک بندش سے شہر کے ان مصروف ترین حصوں میں گاڑیوں کی کلومیٹر لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
ٹریفک حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ان علاقوں میں جانے سے گریز کریں اور متبادل راستوں کا انتخاب کریں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









