آبنائے ہرمز کی بندش، خام تیل کی قیمت سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

ایران سے کشیدگی نے عالمی تیل منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ایشیائی تجارت کے آغاز پر خام تیل کی قیمت سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے، جس کے اثرات پیٹرول کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اتوار کی شب ایشیائی منڈیوں میں تجارت کے آغاز پر خام تیل کی قیمت ایک سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی۔
ماہرین کے مطابق یہ ابتدائی اشارہ ہے کہ ایران پر حملوں اور خطے میں سپلائی کی ممکنہ رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں ایندھن مہنگا ہو سکتا ہے۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت اتوار کی شب امریکی مشرقی وقت کے مطابق آٹھ بج کر دس منٹ پر اٹھہتر اعشاریہ چھبیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو جمعہ کے اختتام کے مقابلے میں سات فیصد سے زائد اضافہ تھا۔ ابتدائی لمحات میں قیمت اکیاسی ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر گئی تاہم بعد میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ اگرچہ نمایاں ہے مگر بدترین خدشات کے مقابلے میں کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاجر ابھی خطے کے تیل پیدا کرنے اور برآمدی ڈھانچے کی مکمل تباہی جیسے انتہائی منظرنامے کو یقینی نہیں سمجھ رہے۔ تاہم اگر جنگ کا دورانیہ بڑھتا ہے تو صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ تنازع چار ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، جس سے منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت مزید بڑھے گی۔
یہ بھی پڑھیں : ایران میں مطلوبہ اہداف کے حصول تک کارروائی جاری رہے گی : ٹرمپ
اس دوران آبنائے ہرمز شدید دباؤ میں ہے، جو ایران کے قریب ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے اور جہاں سے دنیا کی سمندری راستے سے ہونے والی تیل تجارت کا تقریباً چوتھائی حصہ گزرتا ہے۔
کئی بحری جہاز اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ بیمہ کی شرحوں میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات نے بھی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
تیل امور کی ماہر ایلن والڈ کا کہنا ہے کہ اگر بحری جہاز کئی ہفتوں تک آبنائے ہرمز سے دور رہتے ہیں تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر خلیج میں اسی نوعیت کی فوجی سرگرمیاں چار ہفتے جاری رہیں تو خصوصاً ایشیائی ممالک کو خام تیل اور تیل مصنوعات کی دستیابی میں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور قیمتوں میں شدید اضافہ حتیٰ کہ قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
ایک اور ماہر کلیٹن سیگل، جو اسٹریٹجک اور بین الاقوامی مطالعات کے مرکز سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ جوں جوں تنازع طول پکڑے گا، امریکا اور اسرائیل ایک طرف اور ایران دوسری طرف توانائی کو بطور دباؤ کے ہتھیار استعمال کرنے کا امکان بڑھ جائے گا۔
اب تک ایسی اطلاعات نہیں کہ ایران کے تیل پیدا کرنے یا برآمدی ڈھانچے کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہو، تاہم اگر ایسا ہوتا ہے تو قیمتیں مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










