بدھ، 4-مارچ،2026
بدھ 1447/09/15هـ (04-03-2026م)

کینیڈا میں بھارتی مداخلت اور ریاستی دہشت گردی کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آگئے

04 مارچ, 2026 11:30

کینیڈا کی انٹیلیجنس ایجنسی اور عالمی میڈیا نے ایک بار پھر بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل اور جاسوسی میں بھارتی ریاست براہِ راست ملوث ہے۔

کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی پالیسی کے حوالے سے نئے اور انتہائی واضح ثبوت منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔

کینیڈا کی سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس کے ترجمان ایرک بالسام نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ بھارت کینیڈا کی حدود میں غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی کرنے والے بڑے مجرموں میں شامل ہے۔

کینیڈین جریدے دی پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق انٹیلیجنس ایجنسی نے ای میل کے ذریعے اس موقف کی مکمل توثیق کی ہے کہ بھارتی حکومت سے منسلک شرپسند عناصر کینیڈا کی سرزمین پر قتل، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

کینیڈا کی سکھ برادری میں اس انکشاف کے بعد شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ اسے اپنی بقا کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت نے ایران کو دھوکا دے کر اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے : سونیا گاندھی

سابق کینیڈین وزیراعظم نے بھی سکھ رہنماء ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے حوالے سے ایسے شواہد پیش کیے ہیں جنہیں جھٹلانا ممکن نہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت ریاستی دہشت گردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے تاکہ خالصتان تحریک کے رہنماؤں کو منظم طریقے سے راستے سے ہٹایا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کا نیٹ ورک پوری دنیا میں متحرک ہو چکا ہے، جس کی سرگرمیوں میں حالیہ عرصے میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے اقلیتوں، بالخصوص سکھوں اور مسلمانوں کے خلاف جاری اس ریاستی دہشت گردی کو روکنا پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے، بصورتِ دیگر عالمی امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔