جمعرات، 5-مارچ،2026
جمعرات 1447/09/16هـ (05-03-2026م)

بھارت-کینیڈا یورینیم معاہدے پر پاکستان کا تشویش کا اظہار

05 مارچ, 2026 15:31

پاکستان نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان ہونے والے یورینیم کی فراہمی کے معاہدے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی اسٹریٹجک توازن کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

دفترِ خارجہ پاکستان نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم کی فراہمی کے معاہدے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے سول نیوکلیئر تعاون کے نام پر ایک اور امتیازی استثنا قرار دیا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، 1974 میں بھارت کے پہلے جوہری تجربے کے بعد ہی نیوکلیئر سپلائرز گروپ قائم کیا گیا تھا تاکہ ایٹمی مواد کے غیر قانونی استعمال کو روکا جا سکے، لیکن اب اسی بھارت کو خصوصی رعایتیں دی جا رہی ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت کی تمام سول جوہری تنصیبات عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں نہیں ہیں، اور کئی تنصیبات اب بھی بین الاقوامی معائنوں سے باہر ہیں۔ ایسی صورت میں بھارت کو بیرونی یورینیم کی فراہمی اسٹریٹجک توازن کو بگاڑ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ: بھارتی بندرگاہیں ایران کے خلاف استعمال ہونے کا انکشاف

پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کو اس بات کا موقع فراہم کرے گا کہ وہ اپنے مقامی یورینیم کے ذخائر کو عالمی معائنوں سے بچا کر خالصتاً فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر سکے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ منتخب ممالک کو اس طرح کی خصوصی سہولتیں فراہم کرنا، عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ سول نیوکلیئر تعاون غیر امتیازی اور معیار پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی بنیادوں پر۔

دفترِ خارجہ کے مطابق، کسی ایک ملک کو مسلسل نوازنا نہ صرف علاقائی توازن کو بگاڑے گا بلکہ یہ عالمی امن اور سلامتی کے لیے بھی ایک مستقل خطرہ بن سکتا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔