فرانسیسی ساختہ جدید راکٹ لانچر طالبان تک کیسے پہنچے؟

طالبان کی جانب سے جاری ویڈیو میں فرانسیسی ساختہ جدید اینٹی آرمر راکٹ لانچر کے ذریعے پاکستانی پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش پر پاکستان میں ماہرین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
طالبان کی وزارت دفاع نے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں حاجی مالی خان، جو کہ طالبان فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور سراج الدین حقانی کے چچا ہیں، کو ایک اینٹی آرمر راکٹ لانچر کے ذریعے پاکستانی سرحدی فورسز کی چوکی کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اس واقعے پر دفاعی اور جیو پولیٹیکل تجزیہ کار زوہیب احمد کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجوؤں کی جانب سے فرانسیسی اور جرمن ساختہ جدید اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل سسٹم کا استعمال ایک تکنیکی طور پر قابل غور پیش رفت ہے۔
یہ سسٹم نیٹو کی جانب سے افغان فورسز کو دیئے گئے سازوسامان کا حصہ کبھی نہیں رہا تھا، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ جدید ہتھیار ان تک کیسے پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں : آپریشن غضب للحق؛ پاک فوج کی فضائی کارروائی، افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ
فرانس نے یہ سسٹم بنانے کا لائسنس بھارت کو دیا تھا اور بھارت بدستور اسے تیار کر رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ سوال شدید تر ہو گیا ہے کہ یہ ہتھیار پاکستان کے خلاف عسکریت پسندانہ کارروائیوں میں کیسے استعمال ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کار کے مطابق یہ واقعہ اس وسیع تر پیٹرن کا حصہ ہے، جہاں عسکریت پسندوں کی صلاحیتیں بیرونی تکنیکی مدد سے جڑی معلوم ہوتی ہیں۔
تجزیہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی فوج اپنی تہوں والی دفاعی حکمت عملی، اینٹی میزائل اقدامات اور مضبوط پوزیشنوں کے ذریعے ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور زمینی حقائق کے مطابق یہ ہتھیار اسٹریٹجک فائدے کے بجائے محض ایک نمائشی کارروائی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












