بڑے صنعتی ممالک کا ہنگامی تیل ذخائر جاری کرنے پر غور

دنیا کی بڑی صنعتی معیشتوں کے گروپ نے تیل کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی توانائی بحران کے پیش نظر تیل ذخائر ہنگامی طور پر جاری کرنے کے امکان پر غور شروع کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق دنیا کی سات بڑی صنعتی معیشتوں کے وزرائے خزانہ آج ایک اہم اجلاس میں ہنگامی تیل ذخائر کو مشترکہ طور پر جاری کرنے کے معاملے پر غور کریں گے۔ یہ اقدام عالمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں کیا جا سکتا ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس تجویز کو اب تک تین ممالک کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جن میں امریکا بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تیل تنصیبات اور پانی کے پلانٹ پر حملے، ایران نے سنگین نتائج کی وارننگ دے دی
ان ممالک کا مؤقف ہے کہ موجودہ جنگی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈی کو فوری استحکام فراہم کرنا ضروری ہے۔
یہ گروپ دنیا کی بڑی ترقی یافتہ معیشتوں پر مشتمل ہے، جس میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا شامل ہیں۔
یہ ممالک عالمی مالیاتی اور اقتصادی فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اکثر عالمی بحرانوں کے دوران مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔
اگر یہ ممالک اپنے ہنگامی تیل ذخائر جاری کرتے ہیں تو اس سے عالمی منڈی میں عارضی طور پر تیل کی فراہمی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔ یہ اقدام صرف ایک وقتی حل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اصل مسئلہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال ہے۔ جب تک اس بحران کا سیاسی حل سامنے نہیں آتا عالمی توانائی منڈی مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار رہ سکتی ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











