پشاور میں امریکی قونصل خانہ بند کرنا سنگین غلطی ہوگی، امریکی تجزیہ نگار

امریکی دفاعی تجزیہ کار نے پشاور میں امریکی قونصل خانے کو ممکنہ طور پر بند کرنے کی تجویز پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
امریکی دفاعی امور کی تجزیہ کار سارہ ایڈیم نے پشاور میں امریکی قونصل خانے کو ممکنہ طور پر بند کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان کے مطابق اس فیصلے کا مقصد سالانہ تقریباً پچھتر لاکھ ڈالر کی بچت بتائی جا رہی ہے، تاہم یہ رقم اس اخراجات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جو گزشتہ برسوں میں طالبان کے سیاسی دفتر کے لیے فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں جلوس اور اجتماعات، امریکی سفارت خانے کا سیکیورٹی الرٹ جاری
انہوں نے کہا کہ دو ہزار تیرہ سے اب تک امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم سے ہر ماہ تقریباً ایک کروڑ ڈالر طالبان کے سیاسی دفتر کے اخراجات کے لیے خرچ کئے جاتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب خطہ دہشت گرد نیٹ ورکس سے بھرا ہوا ہے، پشاور جیسے اہم شہر میں سفارتی موجودگی ختم کرنا ایک سنگین حکمت عملی کی غلطی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد خطے میں معلومات اور رسائی پہلے ہی کم ہو چکی ہے، اس لیے مزید سفارتی مراکز بند کرنا انسداد دہشت گردی کی مؤثر حکمت عملی کے برعکس ہوگا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










