مصنوعی ذہانت کی دنیا پر حکمرانی کیلئے چین کی بڑی سفارتی اور اسٹریٹجک پیش قدمی

جہاں سپر پاورز سب سے طاقتور مصنوعی ذہانت بنانے کی دوڑ میں لگی رہیں، وہیں چین نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کے قوانین تیار کرنے کی بڑی اسٹریٹجک مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
رواں ماہ اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں چین کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے نائب وزیر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی تیاری اور اس کے استعمال کو کنٹرول کرنے کیلئے چین کے تیار کردہ قوانین کو نافذ کیا جائے۔
اس سے ایک ہفتہ قبل چین کے چوٹی کے مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے امریکی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر مصنوعی ذہانت کی حفاظت میں چین کے کردار کو بیان کیا تھا۔
چین اس سلسلے میں پہلے ہی کئی عالمی پروگرام شروع کر چکا ہے، جن میں 2023 کا گلوبل اے آئی گورننس انیشیٹو، 2024 کا کیپیسٹی بلڈنگ ایکشن پلان اور 2025 کا گلوبل اے آئی گورننس ایکشن پلان شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : چین کی فوجی حکمت عملی میں جدت، روبوٹک طبی نظام اگلی جنگوں کا رخ بدلنے کو تیار
ان اقدامات کے ساتھ ساتھ چینی کمپنیوں نے دنیا کے 106 ممالک میں 22 ارب ڈالر سے زائد کی ڈیجیٹل سرمایہ کاری کر رکھی ہے، جس کے تحت وہ ان ممالک کو ہارڈ ویئر اور ڈیٹا سینٹرز کے ساتھ ساتھ اپنے قوانین بھی فراہم کر رہے ہیں۔
چین کے اپنے ملکی قوانین کے مطابق مصنوعی ذہانت کو اشتراکی اقدار کا پابند ہونا ضروری ہے اور اب یہی قوانین جنوب مشرقی ایشیائی ممالک، برکس اور دیگر ترقی پذیر ممالک کو برآمد کیے جا رہے ہیں۔
اگر یہ قوانین عالمی معیار بن گئے تو امریکی کمپنیوں کو یا تو ان ممالک کی مارکیٹ چھوڑنی پڑے گی یا پھر چین کے سنسرشپ قوانین کو ماننا پڑے گا۔
واشنگٹن نے اب تک صرف ٹیکنالوجی کی برآمدات روکنے پر توجہ دی ہے، لیکن وہ ان مارکیٹوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہا ہے، جہاں چین پہلے ہی اپنا نظام بیچ رہا ہے۔
چین مصنوعی ذہانت کے قوانین کو اپنی ریاستی طاقت کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ امریکہ کے پاس اب تک اس کا کوئی جواب موجود نہیں ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











